Showing posts with label سحر انصاری. Show all posts
Showing posts with label سحر انصاری. Show all posts

Friday, 22 March 2024

ہوس و وفا کی سیاستوں میں بھی کامیاب نہیں رہا

 ہوس و وفا کی سیاستوں میں بھی کامیاب نہیں رہا 

کوئی چہرہ ایسا بھی چاہیے جو پس نقاب نہیں رہا 

تِری آرزو سے بھی کیوں نہیں غم زندگی میں کوئی کمی 

یہ سوال وہ ہے کہ جس کا اب کوئی اک جواب نہیں رہا 

تھیں سماعتیں سر ہاؤ ہو چھڑی قصہ خانوں کی گفتگو 

وہی جس نے بزم سجائی تھی وہی باریاب نہیں رہا 

Friday, 26 January 2024

ایمان آپ حاصل ایمان آپ ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ایمان آپﷺ حاصلِ ایمان آپﷺ ہیں 

نازاں ہوں میں کہ اب مِری پہچان آپؐ ہیں 

سب پر بقدرِ حوصلہ ہوتے ہیں مُنکشف 

قُرآن آپؐ، معنئ قُرآن آپﷺ ہیں 

وجہِ سکوں ہے اسمِ گرامی کا ایک وِرد 

دُشواریوں میں کس قدر آسان آپؐ ہیں 

Wednesday, 5 February 2020

کچھ سوچ کے مرنا چاہا تھا کچھ سوچ کے جینا چاہا ہے

اک آس کا دھندلا سایہ ہے، اک پاس کا تپتا صحرا ہے
کیا دیکھ رہے ہو آنکھوں میں، ان آنکھوں میں کیا رکھا ہے
جب کھونے کو کچھ پاس بھی تھا، تب پانے کا کچھ دھیان نہ تھا
اب سوچتے ہو کیوں، سوچتے ہو کیا، کھویا ہے کیا پایا ہے؟
میں جھوٹ کو سچ سے کیوں بدلوں اور رات کو دن میں کیوں گھولوں
کیا سننے والا بہرا ہے؟، کیا دیکھنے والا اندھا ہے؟

دل کسی صورت مگر آباد ہے

راستوں میں اک نگر آباد ہے
اس تصور ہی سے گھر آباد ہے
کیسی کیسی صورتیں گم ہو گئیں
دل کسی صورت مگر آباد ہے
کیسی کیسی محفلیں سُونی ہوئیں
پھر بھی دنیا کس قدر آباد ہے

ہے آگہی کے بعد غم آگہی بہت

محسوس کیوں نہ ہو مجھے بے گانگی بہت
میں بھی تو اس دیار میں ہوں اجنبی بہت
آساں نہیں ہے کشمکشِ ذات کا سفر
ہے آگہی کے بعد غمِ آگہی بہت
ہر شخص پُرخلوص ہے ہر شخص باوفا
آتی ہے اپنی سادہ دلی پر ہنسی بہت

یہ رنگ ہجر کی شب جاگ کر نہیں آیا

کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا
گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا
کہوں تو کس سے کہوں آ کے اب سرِ منزل
سفر تمام ہوا، ہم سفر نہیں آیا
صبا نے فاش کیا رمزِ بوئے گیسوئے دوست
یہ جرم اہلِ تمنا کے سر نہیں آیا

Saturday, 31 December 2016

بہت اداس ہوں کوئی فسانہ کہہ مجھ سے

بہت اداس ہوں، کوئی فسانہ کہہ مجھ سے
نہیں یہ عہد بھی عہدِ وفا، نہ کہہ مجھ سے
اسی فضا میں مِرے روز و شب گزرتے ہیں
شکست ذات کا ہر ماجرا نہ کہہ مجھ سے
حیات اصل میں ہے اپنے قرب کا احساس
تِرے بغیر بھی جینا ہوا، نہ کہہ مجھ سے

وہ زندگی کہ جس میں اذیت نہیں کوئی

وہ زندگی کہ جس میں اذیت نہیں کوئی
اک خواب ہے کہ جسکی حقیقت نہیں کوئی
میری وفا کو زلف و لب و چشم سے نہ دیکھ
کارِ خلوصِ ذات کی اجرت نہیں کوئی
تسلیم تیرے ربط و خلوص و وفا کے نام
خوش ہوں کہ ان میں لفظِ محبت نہیں کوئی

سدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں

سدا اپنی روش اہلِ زمانہ یاد رکھتے ہیں
حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں
ہجوم اپنی جگہ تاریک جنگل کے درختوں کا
پرندے پھر بھی شاخِ آشیانہ یاد رکھتے ہیں
ہمیں اندازہ رہتا ہے ہمیشہ دوست دشمن کا
نشانی یاد رکھتے ہیں، نشانہ یاد رکھتے ہیں

Thursday, 10 November 2016

کچھ کرم ہم پہ برملا تو ہوئے

کچھ کرم ہم پہ برملا تو ہوئے
بندگانِ خدا، خدا تو ہوئے
یاں تو رد عمل ہی تھا ناپید
کم سے کم لوگ کچھ خفا تو ہوئے
نہ سہی ہم چمن میں موجِ صبا
دشت و در کے لیے ہوا تو ہوئے

گل و سمن سے بھی رشتے قرار جاں کے ہیں

گل و سمن سے بھی رشتے قرار جاں کے ہیں
بہت فریب یہاں عمر رائیگاں کے ہیں
نہیں ہے کوئی بھی منزل اگر مِری منزل
تو پھر یہ پاؤں تلے راستے کہاں کے ہیں
قمر سے دیکھ طلوعِ زمیں کا نظارہ
نگاہ پر تو بہت قرض آسماں کے ہیں

Monday, 26 September 2016

عجب طرح سے میں صرف ملال ہونے لگا

عجب طرح سے میں صرفِ ملال ہونے لگا
جو شہر کا ہے وہی دل کا حال ہونے لگا
سب اسکی بزم میں تھے مجرموں کی طرح خموش
ہم آ گئے تو ہمیں سے سوال ہونے لگا
اب آسماں سے مجھے شکوۂ جفا بھی نہیں
ہر انقلاب مِرے حسبِ حال ہونے لگا

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے

نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے
ہمیں تمام گِلے اپنی آگہی سے رہے
وہ پاس آئے تو موضوعِ گفتگو نہ ملے
وہ لوٹ جائے تو ہر گفتگو اسی سے رہے
ہم اپنی راہ چلے،۔۔ لوگ اپنی راہ چلے
یہی سبب ہے کہ ہم سرگراں سبھی سے رہے

Monday, 19 September 2016

ہم اہل ظرف کہ غم خانہ ہنر میں رہے

ہم اہلِ ظرف کہ غم خانۂ ہنر میں رہے
سفالِ نم کی طرح دستِ کوزہ گر میں رہے
ہے چاک چاک رقم داستانِ گردشِ خاک
نمودِ صورتِ اشکال کیا نظر میں رہے
فرار مل نہ سکا حبسِ جسم و جاں سے کہ ہم
طلسم خانۂ تکرارِ خیر و شر میں رہے

ہر نظر پریشاں ہے ہر نفس ہراساں ہے

ہر نظر پریشاں ہے، ہر نفس ہراساں ہے
ہر خیال ویراں ہے، شہر ہے کہ زنداں ہے
دل کا امتحاں کیسا، دل تو ضبط کے ہاتوں
چارہ گر سے نادم ہے، درد سے پشیماں ہے
ایسی روشنی کی داد کس سے پائیں جُز خورشید
آندھیوں کے حلقے میں شمعِ جاں فروزاں ہے

تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ

تنگ آتے بھی نہیں کشمکشِ دہر سے لوگ
کیا تماشا ہے کہ مرتے بھی نہیں زہر سے لوگ
شہر میں آئے تھے صحرا کی فضا سے تھک کر
اب کہاں جائیں گے آسیب زدہ شہر سے لوگ
نخلِ ہستی نظر آئے گا، کبھی نخلِ صلیب
زیست کی فال نکالیں گے کبھی زہر سے لوگ

Monday, 21 December 2015

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
وہ فاصلے بھی گئے، اب وہ قربتیں بھی گئیں
دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے، نہ گریز
محبتیں تو گئی تھیں، عداوتیں بھی گئیں
لبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے
ستمگروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں

سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا

سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا
کہ باز جرمِ صداقت سے میں نہیں آیا
فصیلِ شہر میں پیدا کیا ہے در میں نے
کسی بھی بابِ رعایت سے میں نہیں آیا
اڑا کے لائی ہے شاید خیال کی خوشبو
تمہاری سمت ضرورت سے میں نہیں آیا

کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی

کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی 
یہ بات جب کی ہے، جب چارہ گر نہ تھا کوئی 
کسی سے رنگِ افق کی ہی بات کر لیتے 
اب اس قدر بھی یہاں معتبر نہ تھا کوئی 
بنائے جاؤں کسی اور کے بھی نقشِ قدم 
یہ کیوں کہوں کہ مِرا ہمسفر نہ تھا کوئی 

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں
نہیں آئی وہ دیو داسی کیوں
ابر برسا برس کے کھل بھی گیا
رہ گئی پھر زمین پیاسی کیوں
اک خوشی کا خیال آتے ہی
چھا گئی ذہن پر اداسی کیوں