ہوس و وفا کی سیاستوں میں بھی کامیاب نہیں رہا
کوئی چہرہ ایسا بھی چاہیے جو پس نقاب نہیں رہا
تِری آرزو سے بھی کیوں نہیں غم زندگی میں کوئی کمی
یہ سوال وہ ہے کہ جس کا اب کوئی اک جواب نہیں رہا
تھیں سماعتیں سر ہاؤ ہو چھڑی قصہ خانوں کی گفتگو
وہی جس نے بزم سجائی تھی وہی باریاب نہیں رہا