یہ نگر وہ نگر قیامت تک
زندگی ہے سفر قیامت تک
اس کی مرضی ہے کب ملے نہ ملے
میں تو ہوں مُنتظر قیامت تک
جسم میں رُوح ڈال کر بولا
آدمی موج کر قیامت تک
یہ نگر وہ نگر قیامت تک
زندگی ہے سفر قیامت تک
اس کی مرضی ہے کب ملے نہ ملے
میں تو ہوں مُنتظر قیامت تک
جسم میں رُوح ڈال کر بولا
آدمی موج کر قیامت تک
جہاں والوں کو جانے کیوں محبت ہے حسینوں سے
مگر مجھ کو نجانے کیوں شکایت ہے حسینوں سے
صریحاً کھلتے رہتے ہیں لوگوں کے دلوں سے بس
ہمیں بس ایک ہی اب تو شکایت ہے حسینوں سے
جہاں بھی مجھ سے ملتے ہیں نگاہیں پھیر لیتے ہیں
بہت پہلے سے مجھ کو تو عداوت ہے حسینوں سے
میری رنگت بھی آپ جیسی ہے
اور فطرت بھی آپ جیسی ہے
آنکھ ٹکتی نہیں کہیں ٹک کر
اس کی عادت بھی آپ جیسی ہے
آپ جنت کے جیسے لگتے ہیں
یعنی جنت بھی آپ جیسی ہے
کرتے ہیں وہ اُلفت کے سماچار کی باتیں
اک بار جو سنتے ہیں مِرے یار کی باتیں
مجھ کو یہ بتاؤ کہ مجھے گھورتے کیوں ہو
جس وقت بھی کرتا ہوں میں اس پیار کی باتیں
اس مطلبی دنیا میں مِرا کون ہے جاناں
کس سے میں کروں اب کہ دلِ خار کی باتیں
مِری جاں یہ محبت میں کہاوت ہے محبت کی
کہ شب بھر نیند نہ آنا علامت ہے محبت کی
محبت چیز ایسی ہے جسے محسوس کرتے ہیں
کوئی رنگ و نسل کوئی نہ صورت ہے محبت کی
کسی سے بھی کسی کو بھی کسی بھی وقت ہوتی ہے
کہ یک دم یار ہونے کی روایت ہے محبت کی
اشخاصِ شہرِ دل کو ستمگر بنا دیا
مجھ کو تمہارے عشق نے بہتر بنا دیا
مے پی کے آ گئیں ہیں حقیقت پسندیاں
مے خواریوں نے مجھ کو سخنور بنا دیا
دوراں نماز یادِ ستمگر نہیں گئی
کہیۓ جناب کیا مجھے کافر بنا دیا
مجھ کو فراقِ یار نے پاگل بنا دیا
یعنی کہ انتظار نے پاگل بنا دیا
شاعر بنے ہوئے ہیں سبھی شہر کے مکین
سب کو تمہارے پیار نے پاگل بنا دیا
مجھ کو برائے شوق بھی رنگیں اداؤں سے
جانِ وفا شعار نے پاگل بنا دیا