Showing posts with label رانا التمش. Show all posts
Showing posts with label رانا التمش. Show all posts

Wednesday, 1 November 2023

یہ نگر وہ نگر قیامت تک زندگی ہے سفر قیامت تک

 یہ نگر وہ نگر قیامت تک

زندگی ہے سفر قیامت تک

اس کی مرضی ہے کب ملے نہ ملے

میں تو ہوں مُنتظر قیامت تک

جسم میں رُوح ڈال کر بولا

آدمی موج کر قیامت تک

Tuesday, 29 March 2022

جہاں والوں کو جانے کیوں محبت ہے حسینوں سے

 جہاں والوں کو جانے کیوں محبت ہے حسینوں سے

مگر مجھ کو نجانے کیوں شکایت ہے حسینوں سے

صریحاً کھلتے رہتے ہیں لوگوں کے دلوں سے بس

ہمیں بس ایک ہی اب تو شکایت ہے حسینوں سے

جہاں بھی مجھ سے ملتے ہیں نگاہیں پھیر لیتے ہیں

بہت پہلے سے مجھ کو تو عداوت ہے حسینوں سے

Tuesday, 15 March 2022

میری رنگت بھی آپ جیسی ہے

 میری رنگت بھی آپ جیسی ہے

اور فطرت بھی آپ جیسی ہے

آنکھ ٹکتی نہیں کہیں ٹک کر

اس کی عادت بھی آپ جیسی ہے

آپ جنت کے جیسے لگتے ہیں

یعنی جنت بھی آپ جیسی ہے

Sunday, 27 February 2022

کرتے ہیں وہ الفت کے سماچار کی باتیں

 کرتے ہیں وہ اُلفت کے سماچار کی باتیں

اک بار جو سنتے ہیں مِرے یار کی باتیں

مجھ کو یہ بتاؤ کہ مجھے گھورتے کیوں ہو

جس وقت بھی کرتا ہوں میں اس پیار کی باتیں

اس مطلبی دنیا میں مِرا کون ہے جاناں

کس سے میں کروں اب کہ دلِ خار کی باتیں

Thursday, 17 February 2022

مری جاں یہ محبت میں کہاوت ہے محبت کی

 مِری جاں یہ محبت میں کہاوت ہے محبت کی

کہ شب بھر نیند نہ آنا علامت ہے محبت کی

محبت چیز ایسی ہے جسے محسوس کرتے ہیں

کوئی رنگ و نسل کوئی نہ صورت ہے محبت کی

کسی سے بھی کسی کو بھی کسی بھی وقت ہوتی ہے

کہ یک دم یار ہونے کی روایت ہے محبت کی

Wednesday, 16 February 2022

اشخاص شہر دل کو ستمگر بنا دیا

 اشخاصِ شہرِ دل کو ستمگر بنا دیا

مجھ کو تمہارے عشق نے بہتر بنا دیا

مے پی کے آ گئیں ہیں حقیقت پسندیاں

مے خواریوں نے مجھ کو سخنور بنا دیا

دوراں نماز یادِ ستمگر نہیں گئی

کہیۓ جناب کیا مجھے کافر بنا دیا

Monday, 20 December 2021

مجھ کو فراق یار نے پاگل بنا دیا

 مجھ کو فراقِ یار نے پاگل بنا دیا

یعنی کہ انتظار نے پاگل بنا دیا

شاعر بنے ہوئے ہیں سبھی شہر کے مکین

سب کو تمہارے پیار نے پاگل بنا دیا

مجھ کو برائے شوق بھی رنگیں اداؤں سے

جانِ وفا شعار نے پاگل بنا دیا