میری رنگت بھی آپ جیسی ہے
اور فطرت بھی آپ جیسی ہے
آنکھ ٹکتی نہیں کہیں ٹک کر
اس کی عادت بھی آپ جیسی ہے
آپ جنت کے جیسے لگتے ہیں
یعنی جنت بھی آپ جیسی ہے
دیکھتا ہوں میں آپ کو خود میں
میری صورت بھی آپ جیسی ہے
مجھ کو مت جانیے زیادہ امیر
میری حالت بھی آپ جیسی ہے
مانتی ہی نہیں کوئی میری
میری قسمت بھی آپ جیسی ہے
صرف باتیں ہیں اور کچھ بھی نہیں
یہ حکومت بھی آپ جیسی ہے
اک بڑا کاروبار،۔ اونچا مکان
میری حسرت بھی آپ جیسی ہے
ہاتھ میں کچھ نہیں ہے منہ میں سب
میری قلت بھی آپ جیسی ہے
رانا التمش
No comments:
Post a Comment