ذرا سا وقت دو مجھ کو ابھی کچھ سوچنا ہے
کہیں دل میں محبت ہے خزینہ کھوجنا ہے
کسی بھی بات کا کوئی ابھی وعدہ نہیں کرتی
مجھے ہاتھوں کی ریکھا میں تمہی کو ڈھونڈنا ہے
ہے کتنا پیار تم سے یہ بتاؤں میں ابھی کیسے
ابھی تو آنکھ سے بہتا سمندر روکنا ہے
ابھی اک آرزو دل میں مچلتی ہے تڑپتی ہے
ابھی اک خواب کو تعبیر ہوتا دیکھنا ہے
ابھی کرنا ہے مجھ کو پیار کا اک استخارہ بھی
ابھی اک خط تمہارے نام لکھ کے بھیجنا ہے
شگفتہ پیار کرتی ہے تمہی سے پیار کرتی ہے
تمہارے کان میں دھیرے سے یہ بھی بولنا ہے
شگفتہ ناز
No comments:
Post a Comment