Tuesday, 15 March 2022

ذرا سا وقت دو مجھ کو ابھی کچھ سوچنا ہے

 ذرا سا وقت دو مجھ کو ابھی کچھ سوچنا ہے

کہیں دل میں محبت ہے خزینہ کھوجنا ہے

کسی بھی بات کا کوئی ابھی وعدہ نہیں کرتی

مجھے ہاتھوں کی ریکھا میں تمہی کو ڈھونڈنا ہے

ہے کتنا پیار تم سے یہ بتاؤں میں ابھی کیسے

ابھی تو آنکھ سے بہتا سمندر روکنا ہے

ابھی اک آرزو دل میں مچلتی ہے تڑپتی ہے

ابھی اک خواب کو تعبیر ہوتا دیکھنا ہے

ابھی کرنا ہے مجھ کو پیار کا اک استخارہ بھی

ابھی اک خط تمہارے نام لکھ کے بھیجنا ہے

شگفتہ پیار کرتی ہے تمہی سے پیار کرتی ہے

تمہارے کان میں دھیرے سے یہ بھی بولنا ہے 


شگفتہ ناز

No comments:

Post a Comment