Showing posts with label اختر شیرانی. Show all posts
Showing posts with label اختر شیرانی. Show all posts

Wednesday, 11 September 2024

کس نے پھر چھیڑ دیا قصہ لیلائے حجاز

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کس نے پھر چھیڑ دیا قصہ لیلائے حجاز

دل کے پردوں میں مچلتی ہے تمنائے حجاز

بھر کے دامن میں غریبوں کی دعائیں لے جا

اے نسیم سحر!، اے بادیہ پیمائے حجاز

بزمِ ہستی میں ہے ہنگامہ محشر برپا

اب تو ہو خواب سے بیدار مسیحائے حجاز

Saturday, 16 July 2022

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق تپاں رہا

 نہ تمہارا حسن جواں رہا، نہ ہمارا عشق تپاں رہا

نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے، جو رہا تو غم کا سماں رہا

نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں، نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں 

نہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں، نہ وہ بیخودی کا سماں رہا

نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں، نہ وہ عاشقی کی کہانیاں

نہ وہ غم نہ اشک فشانیاں، نہ وہ دردِ دل کا نشاں رہا

Sunday, 1 May 2022

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

 کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

اِک بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں

مجھ کو ہے اعتراف کہ دعاوں میں ہے اثر

جائیں نہ عرش پر یہ دعائیں تو کیا کریں

اِک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم

نازل ہوں روز دل پہ بلائیں تو کیا کریں

Friday, 10 December 2021

اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اگر اے نسیمِ سحر تِرا ہو گزر دیارِ حجاز میں

مِری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میں

تمہیں حدِ عقل نہ پا سکی فقط اتنا حال بتا سکی

کہ تم ایک جلوۂ راز تھے جو نہاں ہے رنگِ مجاز میں

نہ جہاں میں راحتِ جاں ملی، نہ متاعِ امن و اماں ملی

جو دوائے دردِ نہاں ملی، تو ملی بہشتِ حجاز میں

Monday, 5 October 2020

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی

ساری دنیا پر جوانی آ گئی

آہ وہ اس کی نگاہ مے فروش

جب بھی اٹھی مستیاں برسا گئی

گیسوئے مشکیں میں وہ روئے حسیں

ابر میں بجلی سی اک لہرا گئی

Saturday, 25 July 2020

غم خانہ ہستی میں ہیں مہماں کوئی دن اور

غم خانۂ ہستی میں ہیں مہماں کوئی دن اور
کر لے ہمیں تقدیر پریشاں کوئی دن اور
مر جائیں گے جب ہم تو بہت یاد کرے گی
جی بھر کے ستا لے شبِ ہجراں کوئی دن اور
تُربت وہ جگہ ہے کہ جہاں غم ہے نہ حیرت
حیرت کدۂ غم میں ہیں حیراں کوئی دن اور

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

خیالستانِ ہستی میں اگر "غم" ہے، "خوشی" بھی ہے
کبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہے
اِنہی "غم" کی گھٹاؤں سے خوشی کا "چاند" نکلے گا
اندھیری رات کے پردوں میں دن کی روشنی بھی ہے
یونہی تکمیل ہو گی حشر تک تصویرِ "ہستی" کی
ہر اک تکمیل آخر میں "پیامِ نیستی" بھی ہے

عشق کی مایوسیوں میں کھو چکے

عشق کی مایوسیوں میں کھو چکے
اے جوانی! جا، تجھے ہم رو چکے
مقصدِ فصلِ جوانی تھا یہی
عشق میں ساری جوانی کھو چکے
میرا ویرانہ ترستا ہی رہا
پھول کھل کر، بے نشاں بھی ہو چکے

Thursday, 23 July 2020

دیوانہ کر دیا ہے غم انتظار نے

دیوانہ کر دیا ہے "غمِ انتظار" نے
اب تک خبر نہ لی مِری غفلت شعار نے
بیمارِ شامِ ہجر کے آنسو نکل پڑے
کیا کہہ دیا ستارۂ شب زندہ دار نے
مخمور خواب، بسترِ گل سے اٹھے ہیں وہ
انگڑائی لی ہے باغ میں صبحِ بہار نے

دل حزیں سے خلش کاری ستم نہ گئی

دلِ حزیں سے خلش کارئ ستم نہ گئی
ابھی تک ان کی نگاہوں سے خوۓ رم نہ گئی
ملی نہ سعئ برہمن سے زاہدوں کو مُراد
چراغِ دَیر سے تاریکئ حرم نہ گئی
ہنوز عشق سے اندازِ بیکسی نہ چھٹا
ہنوز حسن سے رنگینئ ستم نہ گئی

Monday, 20 July 2020

نہ چھیڑ زاہدِ ناداں شراب پینے دے

نہ چھیڑ زاہدِ ناداں!! شراب پینے دے
شراب پینے دے خانہ خراب پینے دے
ابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے نہ مجھے
ابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے
میں جانتا ہوں، چھلکتا ہوا گناہ ہے یہ
تو اس گناہ کو بے احتساب پینے دے

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں

ہمارے ہاتھ میں کب ساغرِ شراب نہیں
ہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں
جہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیں
وہ مے کدے نہیں، ساقی نہیں، شراب نہیں
شبِ بہار میں تاروں سے کھیلنے والے
تِرے بغیر مجھے آرزوئے خواب نہیں

Saturday, 18 July 2020

بھول نہ جانا او پردیسی

پردیسی سے

بھول نہ جانا او پردیسی
او پردیسی بھول نہ جانا
پھر بھی آنا او پردیسی
او پردیسی پھر بھی آنا

چلتے رستے پریت لگائی
بھولے من پر آفت ڈھائی

ساون کی گھٹائیں چھا گئی ہیں

ساون کی گھٹائیں

ساون کی گھٹائیں چھا گئی ہیں
برسات کی پریاں آ گئی ہیں
دل دینے کی رت آئی ہے
سینوں میں امنگ سمائی ہے
ارمانوں نے عید منائی ہے
امیدیں جوانی پا گئی ہیں

Wednesday, 15 July 2020

بادل کا سندیسہ

بادل کا سندیسہ

آئے ہیں بادل، چھائے ہیں بادل
کس کا سندیسہ لائے ہیں بادل
باغ میں کوئل کوک اٹھی پھر
دل میں ہمارے ہوک اٹھی پھر
کون نگر سے آئے ہیں بادل
کس کا سندیسہ لائے ہیں بادل

پردیسی کی پریت

پردیسی کی پرِیت

پردیسی کی پریت ہے جھوٹی
جھوٹی پردیسی کی پرِیت
ہارے ہوئے کی جیت ہے جھوٹی
دنیا کی یہ ریت ہے جھوٹی
پردیسی کی پریت ہے جھوٹی
جھوٹی پردیسی کی پریت

Monday, 13 July 2020

نہ بھولیں گی کبھی اے ہمنشیں راتیں جوانی کی

نہ بھولیں گی کبھی اے ہم نشیں، راتیں جوانی کی
وہ راتیں،۔ وہ ملاقاتیں،۔ وہ برساتیں جوانی کی
لبوں پر آہ، دل میں دھڑکنیں، آنکھوں میں اشکِ خوں
جوانی" لے کر آئی ہے یہ "سوغاتیں" جوانی کی"
یہ مرجھائی ہوئی کلیاں نہیں،۔ بے نور آنکھیں ہیں
بسی تھیں جن کے خوابوں میں کبھی راتیں جوانی کی

ہمارے سامنے اغیار کی باتیں نہیں اچھی

وہ کہتے ہیں کہ ہم سے پیار کی باتیں نہیں اچھی
کوئی سمجھائے یہ تکرار کی باتیں نہیں اچھی
تمہاری ہی طرح اغیار بھی اچھے سہی، لیکن
ہمارے سامنے "اغیار" کی باتیں نہیں اچھی
شبِ وصل آپ کا عذرِ نزاکت کون مانے گا
کہے دیتے ہیں ہم تکرار کی باتیں نہیں اچھی

وہ میرے سامنے شرما کے جب پیمانہ رکھتے ہیں

دلِ "دیوانہ" و انداز "بے باکانہ" رکھتے ہیں
گدائے مےکدہ ہیں وضع آزادانہ رکھتے ہیں
مجھے مےخانہ، تھراتا ہوا محسوس ہوتا ہے
وہ میرے سامنے شرما کے جب پیمانہ رکھتے ہیں
تری عالی جنابی سے ہو کس کو عشق کی جرأت
خدا کا شکر ہے، ہم شمعِ بے پروانہ رکھتے ہیں

Tuesday, 7 July 2020

پھر ستاتی ہے ہمیں گزری ہوئی راتوں کی یاد

پھر ستاتی ہے ہمیں گزری ہوئی راتوں کی یاد
آہ ان راتوں کی یاد، ان پیار کی باتوں کی یاد
رات کے پردوں میں چھپ چھپ کر جو ہوتی تھیں کبھی
چٹکیاں لیتی ہے دل میں ان ملاقاتوں کی یاد
اب بھی آ کر گدگدا جاتی ہے بزم شوق کو
سایۂ گیسو میں شرمائی ہوئی راتوں کی یاد