عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کس نے پھر چھیڑ دیا قصہ لیلائے حجاز
دل کے پردوں میں مچلتی ہے تمنائے حجاز
بھر کے دامن میں غریبوں کی دعائیں لے جا
اے نسیم سحر!، اے بادیہ پیمائے حجاز
بزمِ ہستی میں ہے ہنگامہ محشر برپا
اب تو ہو خواب سے بیدار مسیحائے حجاز
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کس نے پھر چھیڑ دیا قصہ لیلائے حجاز
دل کے پردوں میں مچلتی ہے تمنائے حجاز
بھر کے دامن میں غریبوں کی دعائیں لے جا
اے نسیم سحر!، اے بادیہ پیمائے حجاز
بزمِ ہستی میں ہے ہنگامہ محشر برپا
اب تو ہو خواب سے بیدار مسیحائے حجاز
نہ تمہارا حسن جواں رہا، نہ ہمارا عشق تپاں رہا
نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے، جو رہا تو غم کا سماں رہا
نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں، نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں
نہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں، نہ وہ بیخودی کا سماں رہا
نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں، نہ وہ عاشقی کی کہانیاں
نہ وہ غم نہ اشک فشانیاں، نہ وہ دردِ دل کا نشاں رہا
کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
اِک بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں
مجھ کو ہے اعتراف کہ دعاوں میں ہے اثر
جائیں نہ عرش پر یہ دعائیں تو کیا کریں
اِک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم
نازل ہوں روز دل پہ بلائیں تو کیا کریں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اگر اے نسیمِ سحر تِرا ہو گزر دیارِ حجاز میں
مِری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میں
تمہیں حدِ عقل نہ پا سکی فقط اتنا حال بتا سکی
کہ تم ایک جلوۂ راز تھے جو نہاں ہے رنگِ مجاز میں
نہ جہاں میں راحتِ جاں ملی، نہ متاعِ امن و اماں ملی
جو دوائے دردِ نہاں ملی، تو ملی بہشتِ حجاز میں
جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی
ساری دنیا پر جوانی آ گئی
آہ وہ اس کی نگاہ مے فروش
جب بھی اٹھی مستیاں برسا گئی
گیسوئے مشکیں میں وہ روئے حسیں
ابر میں بجلی سی اک لہرا گئی