دلِ حزیں سے خلش کارئ ستم نہ گئی
ابھی تک ان کی نگاہوں سے خوۓ رم نہ گئی
ملی نہ سعئ برہمن سے زاہدوں کو مُراد
چراغِ دَیر سے تاریکئ حرم نہ گئی
ہنوز عشق سے اندازِ بیکسی نہ چھٹا
بتوں کو نکلے ہوۓ مدتیں ہوئیں لیکن
ہنوز فطرتِ بت سازئ حرم نہ گئی
حرم میں حضرتِ زاہد نے لاکھ سر مارا
جبیں سے تیرگئ سجدۂ صنم نہ گئی
وہ میری شوخ نگاری پہ لکھتے ہیں اختر
ابھی تک آپ کی گستاخئ قلم نہ گئی
اختر شیرانی
No comments:
Post a Comment