Showing posts with label پرویز ساحر. Show all posts
Showing posts with label پرویز ساحر. Show all posts

Saturday, 22 April 2023

مجھ سے ہنستے ہوئے جس دم وہ ملا عید کے دن

مجھ سے ہنستے ہوئے جس دم وہ مِلا عید کے دن

کُنج دل میں مِرے اک پھول کِھلا عید کے دن

کیا خبر کل تجھے کس بات پہ رونا پڑ جائے

خوب جی بھر کے تُو خوش ہو لے دِلا! عید کے دن

جانے کیا سوچ کے سینے سے لگایا اس کو

بر سرِ درِ راہگزر جو بھی مِلا عید کے دن

Monday, 27 February 2017

عشق کیا اور کیا ہوس بس بس

عشق کیا اور کیا ہوس، بس بس 
چھوڑ دے تُو یہ بحث، بس بس بس 
کچھ نشاں تو کمر کا رہنے دے
یوں نہ بندِ قبا کو کس، بس بس
ہو گیا راکھ ، جل کے ہاتھ مِرا
جب ہُوا اس بدن سے مَس، بس بس 

نشہ وصل کے خمار میں تھا

نشۂ وصل کے خمار میں تھا
میں کہ جو گم خیالِ یار میں تھا
اس لیے جبر اختیار کِیا
جبر ہی میرے اختیار میں تھا
اس نے دیکھا تو سب کو آیا نظر
ورنہ میں کب کسی شمار میں تھا

خوشبوئے گُل کو یوں نہ بکھر جانا چاہئے تھا

خوشبوۓ گُل کو یُوں نہ بکھر جانا چاہیے تھا
خود موجۂ ہوا کو ٹھہر جانا چاہیے تھا
کیوں ہو گیا محِیط مِری ساری زندگی پر
اس پَل کو، ایک پَل میں گزر جانا چاہیے تھا
دیکھا اسے تو بڑھ کے گلے لگ گیا میں خود ہی
حالانکہ مجھ کو موت سے ڈر جانا چاہیے تھا

Monday, 20 February 2017

ہے صبح دکھ اور شام دکھ ہے تمام دکھ ہے

ہے صبح دکھ اور شام دکھ ہے، تمام دُکھ ہے
نصیبِ انساں مدام دکھ ہے، تمام دکھ ہے
میں قطرہ قطرہ ہی پی رہا ہوں کہ جی رہا ہوں 
یہ زندگانی کا جام دکھ ہے، تمام دکھ ہے
نہ سن سکو گے مِری کہانی، مِری زبانی
تمام دکھ ہے، تمام دکھ ہے، تمام دکھ ہے

تھے اپنے ساتھ جو گرم سفر زیادہ تر

تھے اپنے ساتھ جو گرمِ سفر زیادہ تر
گئے ہیں راہ میں وہ چھوڑ کر زیادہ تر
کوئی کرے تو بھلا کس کا اعتبار کرے
کہ راہزن ہیں یہاں راہبر، زیادہ تر
جو بے ثمر ہیں، وہی سر کشیدہ ہوتے ہیں
خمیدہ رہتے ہیں صوفی شجر، زیادہ تر

کار دنیا کی الگ بات کہ ہاں ٹھیک نہیں

کارِ دنیا کی الگ بات کہ ہاں ٹھیک نہیں 
عشق میں فکر و غمِ سُود و زیاں ٹھیک نہیں
کچھ دنوں سے رگِ جاں ٹوٹتی رہتی ہے مِری 
کچھ دنوں سے مِری جاں! حالتِ جاں ٹھیک نہیں
ان کو معلوم ہی کب طرزِ جدا گانہ مِرا 
جو یہ کہتے ہیں، مِرا طرزِ فغاں ٹھیک نہیں

Tuesday, 14 February 2017

اک جھلک دیکھ کے حیران بھی ہو سکتا ہے

اک جھلک دیکھ کے حیران بھی ہو سکتا ہے
آئینہ ہے، سو پریشان بھی ہو سکتا ہے
عین ممکن ہے کہ ہو تیری طرف دھیان مِرا
اور کسی اور طرف دھیان بھی ہو سکتا ہے
تُو اگر دیکھنے آ جائے مجھے آخری بار
مرحلہ موت کا آسان بھی ہو سکتا ہے

گہے کھنچے کھنچے گاہے ڈرے ڈرے مرے دوست

گہے کھنچے کھنچے،  گاہے ڈرے ڈرے، مِرے دوست
رہے ہمیشہ ہی مجھ سے پرے پرے، مرے دوست
عجیب مُردنی چھائی ہے سب کے چہروں پر
ہیں زندہ ہوتے ہُوئے بھی مَرے مَرے، مرے دوست
یہ خوشبوئیں یونہی پھیلی نہیں ہیں سارے میں 
ادھر سے گزرے ہیں پریوں کے کچھ پَرے، مرے دوست

چشم خوش آب کی تمثیل نہیں ہو سکتی

چشمِ خوش آب کی تمثیل نہیں ہو سکتی
ایسی شفاف کوئی جھیل نہیں ہو سکتی
میری فطرت ہی میں شامِل ہے محبت کرنا
اور فطرت کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی
اس کے دل میں مجھے اک جوت جگانا پڑے گی
خود ہی روشن کوئی قندیل نہیں ہو سکتی

Wednesday, 8 February 2017

کب کہا میں نے ہر کہیں میں ہوں

کب کہا میں نے ہر کہیں میں ہوں 
حجرۂ جاں میں جاگزیں میں ہوں
تجھ کو معلوم ہی نہیں شاید
تُو جو تُو ہے، یہ تُو نہیں، میں ہوں
مثلِ ہمزاد ساتھ ہوں تیرے
ہے جہاں تُو، وہیں وہیں میں ہوں

اک لذت گناہ مجھے کھینچتی رہی

اِک لذتِ گناہ مجھے کھینچتی رہی
اور وہ بھی بے پناہ مجھے کھینچتی رہی
دیوانہ وار کھنچتا رہا اس طرف کو میں
جادو بھری نگاہ مجھے کھینچتی رہی
ورنہ، میں کھنچنے والا نہیں تھا کبھی اُدھر
یہ تو کسی کی چاہ مجھے کھینچتی رہی

در ستارۂ دمدار کر کے وا کوئی

نذر جمال احسانی 

درِ ستارۂ دُم دار کر کے وا کوئی 
عجب ادا سے مجھے دیکھتا رہا کوئی
گواہی دے رہے ہیں خود نقوشِ پا سرِ دشت
اِدھر سے گزرا ہے پہلے بھی قافلہ کوئی
دعائیں بیچنے والے! چل اس نگر سے نکل
یہاں تو مفت بھی لیتا نہیں دعا کوئی