کیسے کھیلا ہے سمے کھیل کی چالوں کی طرح
ہائے پھر بیت گیا سال یہ سالوں کی طرح
روح کے زخم نظر آتے تو آتے کیسے
اس نے دیکھا تھا فقط دیکھنے والوں کی طرح
ہے رقم وہ ہی مِری زیست کے ہر صفحے پر
جزوِ لازم ہے وہ تمہید، حوالوں کی طرح
کیسے کھیلا ہے سمے کھیل کی چالوں کی طرح
ہائے پھر بیت گیا سال یہ سالوں کی طرح
روح کے زخم نظر آتے تو آتے کیسے
اس نے دیکھا تھا فقط دیکھنے والوں کی طرح
ہے رقم وہ ہی مِری زیست کے ہر صفحے پر
جزوِ لازم ہے وہ تمہید، حوالوں کی طرح
اس کو بدن کے ساتھ مِرا دل بھی چاہئے
سرخی لبوں کی، گال کا یہ تل بھی چاہئے
تھک تھک کے چل رہے ہیں رہِ زیست پر قدم
جینے کے واسطے انہیں منزل بھی چاہئے
کشتی نظر کی پار لگائیں تو کس طرح
بحرِ وفا میں پیار کا ساحل بھی چاہئے
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
خدا کے نور سے روشن ہے کائنات مِری
اُسی کی چاہ میں کٹتی ہے بس حیات مری
کرم ہے اس کا ہی اس نے عطا کیا ہے مجھے
نسب وہ جس پہ ہے فاخر سدا یہ ذات مری
کروں میں شکر ادا نعمتوں کا ہر اک پل
رحم سے اس کے مزین معاشیات مری
میرے محبوب علاجِ دلِ بسمل کر دو
اپنی چاہت کو مِرے پیار کا حاصل کر دو
اپنی پلکوں کے ستاروں کو بکھر جانے دو
سونی سونی سی ہے دنیا، اسے جھلمل کر دو
کسی ٹوٹی ہوئی کشتی کی طرح لہروں پر
زندگی ڈول رہی ہے، لبِ ساحل کر دو
موجِ خوں سر سے گزرتی ہے گزر جانے دو
کہیں یہ گردشِ ایام ٹھہر جانے دو
اٹھنے والی ہے کوئی دَم میں ستاروں کی بساط
اور کچھ دیر کا نشہ ہے، اُتر جانے دو
راہ میں روک کے احوال نہ پوچھو ہم سے
ابھی باقی ہے بہت اپنا سفر، جانے دو
اس نے لکھا تِرا جمال کہاں
تیری آنکھیں کہاں، غزال کہاں
کارِِ دنیا میں اعتدال رکھوں
اس کی چاہت میں اعتدال کہاں
یہ جنوں ہے یہ عشق ہے ہمدم
فاصلوں کا اسے ملال کہاں