Showing posts with label تبسم رضوی. Show all posts
Showing posts with label تبسم رضوی. Show all posts

Thursday, 16 December 2021

کیسے کھیلا ہے سمے کھیل کی چالوں کی طرح

 کیسے کھیلا ہے سمے کھیل کی چالوں کی طرح

ہائے پھر بیت گیا سال یہ سالوں کی طرح

روح کے زخم نظر آتے تو آتے کیسے

اس نے دیکھا تھا فقط دیکھنے والوں کی طرح

ہے رقم وہ ہی مِری زیست کے ہر صفحے پر

جزوِ لازم ہے وہ تمہید، حوالوں کی طرح

Wednesday, 1 December 2021

اس کو بدن کے ساتھ مرا دل بھی چاہئے

اس کو بدن کے ساتھ مِرا دل بھی چاہئے

سرخی لبوں کی، گال کا یہ تل بھی چاہئے

تھک تھک کے چل رہے ہیں رہِ زیست پر قدم

جینے کے واسطے انہیں منزل بھی چاہئے

کشتی نظر کی پار لگائیں تو کس طرح

بحرِ وفا میں پیار کا ساحل بھی چاہئے

Monday, 29 November 2021

خدا کے نور سے روشن ہے کائنات مری

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


خدا کے نور سے روشن ہے کائنات مِری

اُسی کی چاہ میں کٹتی ہے بس حیات مری

کرم ہے اس کا ہی اس نے عطا کیا ہے مجھے

نسب وہ جس پہ ہے فاخر سدا یہ ذات مری

کروں میں شکر ادا نعمتوں کا ہر اک پل

رحم سے اس کے مزین معاشیات مری

Sunday, 28 November 2021

میرے محبوب علاج دل بسمل کر دو

 میرے محبوب علاجِ دلِ بسمل کر دو

اپنی چاہت کو مِرے پیار کا حاصل کر دو

اپنی پلکوں کے ستاروں کو بکھر جانے دو

سونی سونی سی ہے دنیا، اسے جھلمل کر دو

کسی ٹوٹی ہوئی کشتی کی طرح لہروں پر

زندگی ڈول رہی ہے، لبِ ساحل کر دو

Sunday, 25 July 2021

موج خوں سر سے گزرتی ہے گزر جانے دو

 موجِ خوں سر سے گزرتی ہے گزر جانے دو

کہیں یہ گردشِ ایام ٹھہر جانے دو

اٹھنے والی ہے کوئی دَم میں ستاروں کی بساط

اور کچھ دیر کا نشہ ہے، اُتر جانے دو

راہ میں روک کے احوال نہ پوچھو ہم سے

ابھی باقی ہے بہت اپنا سفر، جانے دو

Thursday, 17 June 2021

اس نے لکھا ترا جمال کہاں

 اس نے لکھا تِرا جمال کہاں 

تیری آنکھیں کہاں، غزال کہاں

کارِِ دنیا میں اعتدال رکھوں

اس کی چاہت میں اعتدال کہاں

یہ جنوں ہے یہ عشق ہے ہمدم

فاصلوں کا اسے ملال کہاں