اس نے لکھا تِرا جمال کہاں
تیری آنکھیں کہاں، غزال کہاں
کارِِ دنیا میں اعتدال رکھوں
اس کی چاہت میں اعتدال کہاں
یہ جنوں ہے یہ عشق ہے ہمدم
فاصلوں کا اسے ملال کہاں
بے وفائی کا ذکر تھا اور ہم
کہہ نہ پائے تیری مثال کہاں
آنکھ میں خون آ گیا شاید
شدتِ درد سے ہے لال کہاں
جو مزا دوریوں کی آگ میں ہے
دے گی وہ حدتِ وصال کہاں
آنکھیں ویران ہیں تبسم کی
اورجاں بھی ہے ا ب بحال کہاں
تبسم رضوی
No comments:
Post a Comment