Showing posts with label صادق اندوری. Show all posts
Showing posts with label صادق اندوری. Show all posts

Friday, 7 June 2024

زبان خلق یہ کہتی ہے کبریا ہے تو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زبانِ خلق یہ کہتی ہے کبریا ہے تُو

تمام ارض و سماوات کا خدا ہے تو

وجود ہے مِرا آغاز، اور عدم انجام

بہ خلفشار وہ ہے جسے ماورا ہے تو

طلب پہ ہی نہیں موقوف تیرا فیض عمیم

ہر ایک شخص کو بے مانگے دے رہا ہے تو

Saturday, 10 December 2016

تیری آنکھوں نے جو مرنے کی سزا دی ہے مجھے

تیری آنکھوں نے جو مرنے کی سزا دی ہے مجھے
تیرے ہونٹوں نے تو جینے کی دعا دی ہے مجھے
میری اکھڑی ہوئی سانسوں کو ملا ہے ٹھہراؤ
تم نے پاس آ کے جو دامن کی ہوا دی ہے مجھے
اے نگاہِ غلط انداز! ذرا تُو ہی بتا
کون ہے جس نے محبت کی ادا دی ہے مجھے

مٹے کچھ ایسے کہ موجود خاک و خس بھی نہیں

مٹے کچھ ایسے کہ موجود خاک و خس بھی نہیں
کہاں نشانِ نشیمن، کہیں قفس بھی نہیں
تلاش کرنا ہے خود ہم کو جادۂ منزل
کہ راہبر کوئی اب اپنے پیش و پس بھی نہیں
یہ روز روز کے طعنے، یہ صبح و شام کے طنز
سلوک دوست بجا، لیکن اس پہ بس بھی نہیں

Thursday, 4 February 2016

احساس آرزوئے بہاراں نہ پوچھیے

احساسِ آرزوئے بہاراں

احساسِ آرزوئے بہاراں نہ پوچھیے
دل میں نہاں ہے آتشِ سوزاں نہ پوچھیے
عید آئی، اور عید کا سامان نہ پوچھیے
مفلس کی داستاں کسی عنواں نہ پوچھیے
ہے آج وہ با حالِ پریشاں نہ پوچھیے

تیرا غم دور ہے یا نزد رگ جاں کوئی

تیرا غم دور ہے، یا نزدِ رگِ جاں کوئی
موت اور زیست میں ہو فرق نمایاں کوئی
اے جنوں! یہ تو ہے دراصل وفا کی توہین 
ہاتھ رک جائے اگر تا حدِ امکاں کوئی 
برف سمجھوں گا میں سورج کی تمازت کو، اگر 
کاش مل جائے تِرا سایۂ داماں کوئی 

یہ انتہائے جنوں ہے کہ غیر ہی سا لگا

یہ انتہائے جنوں ہے کہ غیر ہی سا لگا
جو آشنا تھا کبھی،۔ آج اجنبی سا لگا
وہ ایک سایہ جو بے حس تھا مردہ کی مانند
قریب آیا،۔ تو اک عکسِ زندگی سا لگا
خود اپنی لاش لیے پھر رہا تھا کاندھوں پر 
وہ آدمی تو نہ تھا، پھر بھی آدمی سا لگا

یہ کیا ہوا کہ ہر اک رسم و راہ توڑ گئے

یہ کیا ہوا کہ ہر اک رسم و راہ توڑ گئے 
جو میرے ساتھ چلے تھے، وہ ساتھ چھوڑ گئے
وہ آئینے, جنہیں ہم سب عزیز رکھتے تھے 
وہ پھینکے وقت نے پتھر, کہ توڑ پھوڑ گئے
ہمارے بھیگے ہوئے دامنوں کی شان تو دیکھ
فلک سے آئے ملک اور گُنہ نچوڑ گئے

Tuesday, 26 January 2016

کہنے کو ہر اک حق کا پرستار ملے ہے

کہنے کو ہر اک حق کا پرستار ملے ہے 
اب دیکھیے کس کو شرفِ دار ملے ہے
ہوتی ہے خرد مصلحت اندیش ہی، لیکن 
محرومِ خرد ۔۔۔ مستحقِ دار ملے ہے
جو ظرف کے پیکر ہیں وہ ہوتے ہیں سرافراز 
کم ظرف کو کب حوصلۂ دار ملے ہے

شہر تا شہر پر ایک شور سا داناؤں میں

شہر تا شہر پر ایک شور سا داناؤں میں 
باڑھ کیا آئی ہے دیوانوں کی صحراؤں میں 
آج سوکھے ہوئے پتے سے بھی کم قیمت ہیں 
نام کل تک تھا ہمارا ۔۔ چمن آراؤں میں 
میری غیرت پہ ہے انگشت بدنداں ہر شخص 
’اب کے ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں‘

زندگی غم کے اندھیروں میں سنورنے سے رہی

زندگی غم کے اندھیروں میں سنورنے سے رہی
ایک تنویرِ حیات آج ابھرنے سے رہی
میں پیمبر نہیں، انسان ہوں، خطا کار انساں 
عرش سے کوئی وحی مجھ اترنے سے رہی  
میں نے کر رکھا ہے محصور چمن حد تک
شاخ تا شاخ کوئی برق گزرنے سےرہی

کردار خوش مقام کی سچائی دے گیا

کردار خوش مقام کی سچائی دے گیا 
جو دار کو حیات کی انگڑائی دے گیا 
بکھرا کچھ اس طرح کہ فلک تک ہوا بلند
میرا وجود موت کو اونچائی دے گیا 
کہتے ہیں وقت ہوتا ہے مرہم، مگر غلط 
یہ اور میرے زخموں کو گہرائی دے گیا 

Saturday, 28 November 2015

کیا ہوا ایسا تمہارے شہر میں

 کیا ہُوا ایسا تمہارے شہر میں

میرا ہے چرچا تمہارے شہر میں

میری دل پُری کی خاطر ہی سہی

کوئی تو ہوتا تمہارے شہر میں

ہو گئی مسدُود ہر راہ فرار

حشر وہ اُٹھا تمہارے شہر میں