عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زبانِ خلق یہ کہتی ہے کبریا ہے تُو
تمام ارض و سماوات کا خدا ہے تو
وجود ہے مِرا آغاز، اور عدم انجام
بہ خلفشار وہ ہے جسے ماورا ہے تو
طلب پہ ہی نہیں موقوف تیرا فیض عمیم
ہر ایک شخص کو بے مانگے دے رہا ہے تو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زبانِ خلق یہ کہتی ہے کبریا ہے تُو
تمام ارض و سماوات کا خدا ہے تو
وجود ہے مِرا آغاز، اور عدم انجام
بہ خلفشار وہ ہے جسے ماورا ہے تو
طلب پہ ہی نہیں موقوف تیرا فیض عمیم
ہر ایک شخص کو بے مانگے دے رہا ہے تو
کیا ہُوا ایسا تمہارے شہر میں
میرا ہے چرچا تمہارے شہر میں
میری دل پُری کی خاطر ہی سہی
کوئی تو ہوتا تمہارے شہر میں
ہو گئی مسدُود ہر راہ فرار
حشر وہ اُٹھا تمہارے شہر میں