عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب کبھی مرکزِ اشعار میں آ جاتے ہیں
ہم بھی حسانؓ کے گلزار میں آ جاتے ہیں
نغمۂ توحید کے سوزِ نہاں میں دیکھا
ہم ثناء خوان بھی انوار میں آ جاتے ہیں
ایک خوشبو سی بکھر جاتی ہے جب نعت کہوں
کیا نبیﷺ پاک دلِ زار میں آ جاتے ہیں؟
جب سے شبیرؑ کے نعلین کا بوسہ چاہا
ہم بھی لطفِ شاہِ ضوبار میں آ جاتے ہیں
جب غمِ دنیا ستائے تو ہمیشہ ہم بھی
”قریۂ مدحتِ سرکارﷺ میں آ جاتے ہیں“
ایک مصرع کہوں کیسے جسے وہ چاہیں؟
بس یہی غم دلِ بیمار میں آ جاتے ہیں
جب زباں نعت کے اشعار میں بولے آقاﷺ
ماہ و انجم مِری گُفتار میں آ جاتے ہیں
مدحتِ شاہِ اممﷺ میں جو گُزارے قائم
رتجگے سارے ہی معیار میں آ جاتے ہیں
سید حبدار قائم
سید حبدار حسین
No comments:
Post a Comment