Thursday, 22 October 2026

جب کبھی مرکزِ اشعار میں آ جاتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب کبھی مرکزِ اشعار میں آ جاتے ہیں

ہم بھی حسانؓ کے گلزار میں آ جاتے ہیں

نغمۂ توحید کے سوزِ نہاں میں دیکھا

ہم ثناء خوان بھی انوار میں آ جاتے ہیں

ایک خوشبو سی بکھر جاتی ہے جب نعت کہوں

کیا نبیﷺ پاک دلِ زار میں آ جاتے ہیں؟

جب سے شبیرؑ کے نعلین کا بوسہ چاہا

ہم بھی لطفِ شاہِ ضوبار میں آ جاتے ہیں

جب غمِ دنیا ستائے تو ہمیشہ ہم بھی

”قریۂ مدحتِ سرکارﷺ میں آ جاتے ہیں“

ایک مصرع کہوں کیسے جسے وہ چاہیں؟

بس یہی غم دلِ بیمار میں آ جاتے ہیں

جب زباں نعت کے اشعار میں بولے آقاﷺ

ماہ و انجم مِری گُفتار میں آ جاتے ہیں

مدحتِ شاہِ اممﷺ میں جو گُزارے قائم

رتجگے سارے ہی معیار میں آ جاتے ہیں


سید حبدار قائم

سید حبدار حسین

No comments:

Post a Comment