ازدحامِ آئینہ چہرہ تراش
چھوڑ اس کو دوسرا چہرہ تراش
میں کہاں اُمید کی گُل کاریاں
یاس کا منظر ہُوا چہرہ تراش
ڈھونڈ اپنے جسم کی تیزابیت
رُوح کی شیریں فضا چہرہ تراش
جو بھی تھا شاخِ نظر سے گِر گیا
اب کہاں کوئی بچا، چہرہ تراش
آسماں چھُونے لگی بے چہرگی
چشمِ تنہائی، نیا چہرہ تراش
ایم جے خالد
No comments:
Post a Comment