Showing posts with label اطہر ضیا. Show all posts
Showing posts with label اطہر ضیا. Show all posts

Tuesday, 10 January 2023

کیا خبر جو نظر آتا ہے وہ منظر ہی نہ ہو

 کیا خبر جو نظر آتا ہے وہ منظر ہی نہ ہو

یہ سمندر کہیں سچ مچ میں سمندر ہی نہ ہو

جس کی امید پہ سر پھوڑ رہی ہے دنیا

کہیں اس آہنی دیوار میں وہ در ہی نہ ہو

جان کر پھول جسے دل سے لگائے ہوئے ہیں

غور سے دیکھ لیں چُھو کر اسے پتھر ہی نہ ہو

Monday, 14 February 2022

جب تلک ساتھ رہوں تیرے ہرا رہتا ہوں

سوکھنے لگتا ہوں میں تجھ سے جدا ہوتے ہی

جب تلک ساتھ رہوں تیرے ہرا رہتا ہوں

سرسری لوگ گزر جاتے ہیں ہر منظر سے

اور اک میں ہوں کہ پتھرایا کھڑا رہتا ہوں

مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے

میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں

Tuesday, 20 July 2021

یہ کیسی آگ مجھ میں جل رہی ہے

 یہ کیسی آگ مجھ میں جل رہی ہے

یہ کیسی برف مجھ میں گل رہی ہے

کوئی تسبیح مجھ میں پڑھ رہا ہے

کوئی قندیل مجھ میں جل رہی ہے

مسافر جا چکا لمبے سفر پر

ابھی تک دھوپ آنکھیں مل رہی ہے

Sunday, 13 June 2021

کوئی دریا بھی رواں ہے مجھ میں

 کوئی دریا بھی رواں ہے مجھ میں 

صرف صحرا ہی کہاں ہے مجھ میں 

کیا پتا جانے کہاں آگ لگی 

ہر طرف صرف دھواں ہے مجھ میں 

جشن ہوتا ہے وہاں رات ڈھلے 

وہ جو اک خالی مکاں ہے مجھ میں 

Thursday, 10 June 2021

حریم دل میں ٹھہر یا سرائے جان میں رک

 حریم دل میں ٹھہر یا سرائے جان میں رک

یہ سب مکان ہیں تیرے کسی مکان میں رک

ابھی میں جوڑ رہا ہوں یقین کا پیالہ

تُو ایسا کر کہ ابھی کاسۂ گمان میں رک

میں تجھ کو باندھ لوں اپنی غزل کے شعروں میں

خیال یار! ذرا دیر میرے دھیان میں رک

Tuesday, 8 June 2021

خود اپنے قتل کا الزام دھو رہا ہوں ابھی

 خود اپنے قتل کا الزام دھو رہا ہوں ابھی

میں اپنی لاش پہ سر رکھ کے رو رہا ہوں ابھی

اسی پہ فصل کھڑی ہو گی اک صداؤں کی

میں جس زمین میں خامشی بو رہا ہوں ابھی

سب اپنی اپنی فصیلیں ہٹا لیں رستے سے

میں اپنی راہ کی، دیوار ہو رہا ہوں ابھی

Sunday, 25 April 2021

ہم تو ہیں حسرت دیدار کے مارے ہوئے لوگ

 ہم تو ہیں حسرتِ دیدار کے مارے ہوئے لوگ

یعنی اک نرگسِ بیمار کے مارے ہوئے لوگ

جل گئے دھوپ میں جو ان کا شمار ایک طرف

کم نہیں سایۂ دیوار کے مارے ہوئے لوگ

تُو نے اے وقت پلٹ کر بھی کبھی دیکھا ہے

کیسے ہیں سب تِری رفتار کے مارے ہوئے لوگ

Thursday, 15 April 2021

اک نیا روپ دیا جائے مری مٹی کو

 اک نیا روپ دیا جائے مِری مٹی کو

چاک پر پھر سے رکھا جائے مری مٹی کو

حقِ تخلیق ادا کرنے سے قاصر ہوں اگر

تو پریشان کیا جائے مری مٹی کو

اب نہیں ڈھونا ہے یہ بارِ وجود

آج آزاد کیا جائے مری مٹی کو