کیا خبر جو نظر آتا ہے وہ منظر ہی نہ ہو
یہ سمندر کہیں سچ مچ میں سمندر ہی نہ ہو
جس کی امید پہ سر پھوڑ رہی ہے دنیا
کہیں اس آہنی دیوار میں وہ در ہی نہ ہو
جان کر پھول جسے دل سے لگائے ہوئے ہیں
غور سے دیکھ لیں چُھو کر اسے پتھر ہی نہ ہو
کیا خبر جو نظر آتا ہے وہ منظر ہی نہ ہو
یہ سمندر کہیں سچ مچ میں سمندر ہی نہ ہو
جس کی امید پہ سر پھوڑ رہی ہے دنیا
کہیں اس آہنی دیوار میں وہ در ہی نہ ہو
جان کر پھول جسے دل سے لگائے ہوئے ہیں
غور سے دیکھ لیں چُھو کر اسے پتھر ہی نہ ہو
سوکھنے لگتا ہوں میں تجھ سے جدا ہوتے ہی
جب تلک ساتھ رہوں تیرے ہرا رہتا ہوں
سرسری لوگ گزر جاتے ہیں ہر منظر سے
اور اک میں ہوں کہ پتھرایا کھڑا رہتا ہوں
مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے
میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں
یہ کیسی آگ مجھ میں جل رہی ہے
یہ کیسی برف مجھ میں گل رہی ہے
کوئی تسبیح مجھ میں پڑھ رہا ہے
کوئی قندیل مجھ میں جل رہی ہے
مسافر جا چکا لمبے سفر پر
ابھی تک دھوپ آنکھیں مل رہی ہے
کوئی دریا بھی رواں ہے مجھ میں
صرف صحرا ہی کہاں ہے مجھ میں
کیا پتا جانے کہاں آگ لگی
ہر طرف صرف دھواں ہے مجھ میں
جشن ہوتا ہے وہاں رات ڈھلے
وہ جو اک خالی مکاں ہے مجھ میں
حریم دل میں ٹھہر یا سرائے جان میں رک
یہ سب مکان ہیں تیرے کسی مکان میں رک
ابھی میں جوڑ رہا ہوں یقین کا پیالہ
تُو ایسا کر کہ ابھی کاسۂ گمان میں رک
میں تجھ کو باندھ لوں اپنی غزل کے شعروں میں
خیال یار! ذرا دیر میرے دھیان میں رک
خود اپنے قتل کا الزام دھو رہا ہوں ابھی
میں اپنی لاش پہ سر رکھ کے رو رہا ہوں ابھی
اسی پہ فصل کھڑی ہو گی اک صداؤں کی
میں جس زمین میں خامشی بو رہا ہوں ابھی
سب اپنی اپنی فصیلیں ہٹا لیں رستے سے
میں اپنی راہ کی، دیوار ہو رہا ہوں ابھی
ہم تو ہیں حسرتِ دیدار کے مارے ہوئے لوگ
یعنی اک نرگسِ بیمار کے مارے ہوئے لوگ
جل گئے دھوپ میں جو ان کا شمار ایک طرف
کم نہیں سایۂ دیوار کے مارے ہوئے لوگ
تُو نے اے وقت پلٹ کر بھی کبھی دیکھا ہے
کیسے ہیں سب تِری رفتار کے مارے ہوئے لوگ
اک نیا روپ دیا جائے مِری مٹی کو
چاک پر پھر سے رکھا جائے مری مٹی کو
حقِ تخلیق ادا کرنے سے قاصر ہوں اگر
تو پریشان کیا جائے مری مٹی کو
اب نہیں ڈھونا ہے یہ بارِ وجود
آج آزاد کیا جائے مری مٹی کو