اک نیا روپ دیا جائے مِری مٹی کو
چاک پر پھر سے رکھا جائے مری مٹی کو
حقِ تخلیق ادا کرنے سے قاصر ہوں اگر
تو پریشان کیا جائے مری مٹی کو
اب نہیں ڈھونا ہے یہ بارِ وجود
آج آزاد کیا جائے مری مٹی کو
اب مجھے اور نہیں ڈھونا یہ زنجیرِ وجود
آج آزاد کیا جائے مری مٹی کو
اطہر ضیا
No comments:
Post a Comment