Thursday, 15 April 2021

تری فرقت میں جینا آ گیا ہے

 تِری فرقت میں جینا آ گیا ہے

محبت کا قرینہ آ گیا ہے

ہمارے زخم تازہ ہو رہے ہیں

دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے

بہت چاہت تھی تم سے مل کے روؤں

مگر اب اشک پینا آ گیا ہے

جو کہتا تھا کہ "میں اچھا نہیں ہوں"

اسی پر دل کمینہ آ گیا ہے

مری خواہش تھی تم کو تک کے مرنا

مگر تک تک کے جینا آ گیا ہے

محبت سے مری گھبرا کے شاید

تمہارے دل میں کینہ آ گیا ہے

بہت میٹھا سا لہجہ تلخ باتیں

مجھے سن کر پسینہ آ گیا ہے

مجھے ڈھب آ گیا ہے مانگنے کا

دعاوں میں قرینہ آ گیا ہے

کنول یہ خواب میں کس کو سناؤں

مِرے گھر تک مدینہ آ گیا ہے


کنول ملک

No comments:

Post a Comment