تِری فرقت میں جینا آ گیا ہے
محبت کا قرینہ آ گیا ہے
ہمارے زخم تازہ ہو رہے ہیں
دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے
بہت چاہت تھی تم سے مل کے روؤں
مگر اب اشک پینا آ گیا ہے
جو کہتا تھا کہ "میں اچھا نہیں ہوں"
اسی پر دل کمینہ آ گیا ہے
مری خواہش تھی تم کو تک کے مرنا
مگر تک تک کے جینا آ گیا ہے
محبت سے مری گھبرا کے شاید
تمہارے دل میں کینہ آ گیا ہے
بہت میٹھا سا لہجہ تلخ باتیں
مجھے سن کر پسینہ آ گیا ہے
مجھے ڈھب آ گیا ہے مانگنے کا
دعاوں میں قرینہ آ گیا ہے
کنول یہ خواب میں کس کو سناؤں
مِرے گھر تک مدینہ آ گیا ہے
کنول ملک
No comments:
Post a Comment