دل نے صدمے کئی سہے ہوں گے
پھر کہیں جاکے دن پھرے ہوں گے
ہاں مسلسل وہ بولتے ہوں گے
جو مِری چپ سے ڈر گئے ہوں گے
اک تعلق تھا اک جدائی تھی
تم سے دونوں نہیں نبھے ہوں گے
وہ محبت سراب ہی ہو گی
ہم اسی میں کہیں رہے ہوں گے
بے دھڑک جھوٹ بولنے والے
تِری آنکھوں کو دیکھتے ہوں گے
بھینٹ دے کر سبھی پیادوں کی
شاہ و فرزیں بھی ڈر گئے ہوں گے
قدسیہ ممتاز
No comments:
Post a Comment