Showing posts with label شعور بلگرامی. Show all posts
Showing posts with label شعور بلگرامی. Show all posts

Tuesday, 22 March 2022

جاتا ہے یار سیر کو گلزار کی طرف

 جاتا ہے یار سیر کو گلزار کی طرف

میری نگاہ ہے گلِ رخسار کی طرف

ہوتی ہے میرے سامنے تصویر یار کی

جب دیکھتا ہوں میں در و دیوار کی طرف

یارب ہو خیر آج کہ کچھ دیکھتا ہے وہ

میری طرف کبھی کبھی تلوار کی طرف

Wednesday, 26 January 2022

تجھ تک گزر کسی کا اے گلبدن نہ دیکھا

 تجھ تک گزر کسی کا اے گلبدن نہ دیکھا

بادِ صبا نے اب تک تیرا چمن نہ دیکھا

میلا ہو رنگ اس کا گر چاندنی میں نکلے

چشمِ فلک نے ایسا نازک بدن نہ دیکھا

عریاں نہ وہ نہایا حمام ہو کہ دریا

چشمِ حباب نے بھی اس کا بدن نہ دیکھا

Saturday, 15 January 2022

تم اپنے مریض غم ہجراں کی خبر لو

 تم اپنے مریض غم ہجراں کی خبر لو

سونپا ہے اگر درد تو درماں کی خبر لو

ہنستے ہو عبث حال پریشاں پہ ہمارے

اپنی تو ذرا زلف پریشاں کی خبر لو

یوں اور مجھے خلق میں بد نام کرو گے

بس ہوش سنبھالو بھی گریباں کی خبر لو

Friday, 24 December 2021

عرض احوال دل زار کروں یا نہ کروں

 عرضِ احوالِ دلِ زار کروں یا نہ کروں؟

عشق سے اپنے خبردار کروں یا نہ کروں

گوشِ دل سے کبھی وہ حال سنے یا نہ سنے

وا میں اپنے لبِ گُفتار کروں یا نہ کروں

بوسہ اک اس سے جو مانگا تو لگا کہنے نہیں

ہے شش و پنج؛ کہ تکرار کروں یا نہ کروں

Saturday, 7 August 2021

دل پھڑک جائے گا وہ شوخ جو خنداں ہو گا

 دل پھڑک جائے گا وہ شوخ جو خنداں ہو گا

اپنے خرمن کو نہ اس برق سے نقصاں ہو گا

صبح محشر کا اگر چاک گریباں ہو گا

میرے ماتم میں سرِ حور بھی عریاں ہو گا

خاک سُلجھے گی تِری زُلف مِری جانب سے

کون جُز بادِ صبا سلسلۂ جنباں ہو گا

Friday, 7 May 2021

جو شانہ گیسوئے جاناں میں ہم کبھو کرتے

 جو شانہ گیسوئے جاناں میں ہم کبھو کرتے

تِری بھی اے دل گم گشتہ آرزو کرتے

ہم دل پہ یہ آفت نہ آتی اک سر مُو

پسند ہم جو نہ وہ زلفِ مشکبو کرتے

سیاہ بختِ ازل ہوں کہاں ہیں ایسے نصیب

کہ قتل کر کے مجھے آپ سرخرُو کرتے