جاتا ہے یار سیر کو گلزار کی طرف
میری نگاہ ہے گلِ رخسار کی طرف
ہوتی ہے میرے سامنے تصویر یار کی
جب دیکھتا ہوں میں در و دیوار کی طرف
یارب ہو خیر آج کہ کچھ دیکھتا ہے وہ
میری طرف کبھی کبھی تلوار کی طرف
جاتا ہے یار سیر کو گلزار کی طرف
میری نگاہ ہے گلِ رخسار کی طرف
ہوتی ہے میرے سامنے تصویر یار کی
جب دیکھتا ہوں میں در و دیوار کی طرف
یارب ہو خیر آج کہ کچھ دیکھتا ہے وہ
میری طرف کبھی کبھی تلوار کی طرف
تجھ تک گزر کسی کا اے گلبدن نہ دیکھا
بادِ صبا نے اب تک تیرا چمن نہ دیکھا
میلا ہو رنگ اس کا گر چاندنی میں نکلے
چشمِ فلک نے ایسا نازک بدن نہ دیکھا
عریاں نہ وہ نہایا حمام ہو کہ دریا
چشمِ حباب نے بھی اس کا بدن نہ دیکھا
تم اپنے مریض غم ہجراں کی خبر لو
سونپا ہے اگر درد تو درماں کی خبر لو
ہنستے ہو عبث حال پریشاں پہ ہمارے
اپنی تو ذرا زلف پریشاں کی خبر لو
یوں اور مجھے خلق میں بد نام کرو گے
بس ہوش سنبھالو بھی گریباں کی خبر لو
عرضِ احوالِ دلِ زار کروں یا نہ کروں؟
عشق سے اپنے خبردار کروں یا نہ کروں
گوشِ دل سے کبھی وہ حال سنے یا نہ سنے
وا میں اپنے لبِ گُفتار کروں یا نہ کروں
بوسہ اک اس سے جو مانگا تو لگا کہنے نہیں
ہے شش و پنج؛ کہ تکرار کروں یا نہ کروں
دل پھڑک جائے گا وہ شوخ جو خنداں ہو گا
اپنے خرمن کو نہ اس برق سے نقصاں ہو گا
صبح محشر کا اگر چاک گریباں ہو گا
میرے ماتم میں سرِ حور بھی عریاں ہو گا
خاک سُلجھے گی تِری زُلف مِری جانب سے
کون جُز بادِ صبا سلسلۂ جنباں ہو گا
جو شانہ گیسوئے جاناں میں ہم کبھو کرتے
تِری بھی اے دل گم گشتہ آرزو کرتے
ہم دل پہ یہ آفت نہ آتی اک سر مُو
پسند ہم جو نہ وہ زلفِ مشکبو کرتے
سیاہ بختِ ازل ہوں کہاں ہیں ایسے نصیب
کہ قتل کر کے مجھے آپ سرخرُو کرتے