آبرو آدمیت کی سستی ہے کیا
کس طرح مان لوں زبردستی ہے کیا
آدمی پر کرے جب ستم آدمی
ایسے لمحوں میں رحمت برستی ہے کیا
تیرے بندوں کے ہاتھوں سے برباد ہے
یا الٰہی وہی تیری بستی ہے کیا
آبرو آدمیت کی سستی ہے کیا
کس طرح مان لوں زبردستی ہے کیا
آدمی پر کرے جب ستم آدمی
ایسے لمحوں میں رحمت برستی ہے کیا
تیرے بندوں کے ہاتھوں سے برباد ہے
یا الٰہی وہی تیری بستی ہے کیا
تم ستم کرو، ہم بھی صبر آزمائیں گے
زخم جتنے کھائیں گے اتنا مُسکرائیں گے
منزلوں کی جانب ہم جب قدم بڑھائیں گے
پھر نہیں رکیں گے ہم آگے بڑھتے جائیں گے
حوصلوں سے ہم سارے فاصلے مٹائیں گے
منزلِ مراد اپنی کوششوں سے پائیں گے
تیرے لیے میں موردِ الزام ہی سہی
بدنام کہہ رہے ہو تو بدنام ہی سہی
انکار ہو بھلے چلو اظہار تو کریں
قصہ تمام بات یہ انجام ہی سہی
تُو ساقیا عدو ہے اگر میں بھی رِند ہوں
دے دشمنی میں زہر بھرا جام ہی سہی
ایسا نہیں کہ تجھ کو پکارا نہیں گیا
تجھ تک مگر سندیسہ ہمارا نہیں گیا
آویزاں آج تک ہے میرا دل صلیب پر
مصلوب کر کے پھر یہ اتارا نہیں گیا
اب تک تمہاری یاد مِرے سینے میں ہے بند
یعنی، ابھی تو سارے کا سارا نہیں گیا