Showing posts with label حسنین اختر. Show all posts
Showing posts with label حسنین اختر. Show all posts

Sunday, 17 September 2023

آبرو آدمیت کی سستی ہے کیا

آبرو آدمیت کی سستی ہے کیا

کس طرح مان لوں زبردستی ہے کیا

آدمی پر کرے جب ستم آدمی

ایسے لمحوں میں رحمت برستی ہے کیا

تیرے بندوں کے ہاتھوں سے برباد ہے

یا الٰہی وہی تیری بستی ہے کیا

Monday, 10 July 2023

تم ستم کرو ہم بھی صبر آزمائیں گے

 تم ستم کرو، ہم بھی صبر آزمائیں گے

زخم جتنے کھائیں گے اتنا مُسکرائیں گے

منزلوں کی جانب ہم جب قدم بڑھائیں گے

پھر نہیں رکیں گے ہم آگے بڑھتے جائیں گے

حوصلوں سے ہم سارے فاصلے مٹائیں گے

منزلِ مراد اپنی کوششوں سے پائیں گے

Sunday, 9 July 2023

تیرے لیے میں مورد الزام ہی سہی

 تیرے لیے میں موردِ الزام ہی سہی

بدنام کہہ رہے ہو تو بدنام ہی سہی

انکار ہو بھلے چلو اظہار تو کریں

قصہ تمام بات یہ انجام ہی سہی

تُو ساقیا عدو ہے اگر میں بھی رِند ہوں

دے دشمنی میں زہر بھرا جام ہی سہی

Saturday, 8 July 2023

ایسا نہیں کہ تجھ کو پکارا نہیں گیا

 ایسا نہیں کہ تجھ کو پکارا نہیں گیا

تجھ تک مگر سندیسہ ہمارا نہیں گیا

آویزاں آج تک ہے میرا دل صلیب پر

مصلوب کر کے پھر یہ اتارا نہیں گیا

اب تک تمہاری یاد مِرے سینے میں ہے بند

یعنی، ابھی تو سارے کا سارا نہیں گیا