تم ستم کرو، ہم بھی صبر آزمائیں گے
زخم جتنے کھائیں گے اتنا مُسکرائیں گے
منزلوں کی جانب ہم جب قدم بڑھائیں گے
پھر نہیں رکیں گے ہم آگے بڑھتے جائیں گے
حوصلوں سے ہم سارے فاصلے مٹائیں گے
منزلِ مراد اپنی کوششوں سے پائیں گے
ان کے سامنے اپنے اشک ہم چُھپائیں گے
مسکرا کے ہم اپنے زخم گُدگدائیں گے
یہ تمہارے غم مجھ کو کب ہی چھوڑ جائیں گے
جب کبھی صدا دوں گا دوڑے دوڑے آئیں گے
درد ہم سنا کر کیوں آپ کو رُلائیں گے
جو بھی ہم پہ گُزری ہے ہم نہیں بتائیں گے
کب ہی آپ اختر کو پہلو میں بٹھائیں گے
مجھ کو یہ توقع تھی آپ دل دُکھائیں گے
حسنین اختر
No comments:
Post a Comment