مِری جان خانہ بدوش کو وہ سکوں ملا تِرے شہر سے
کہ میں کوچ کرنے کے بعد بھی نہ بچھڑ سکا ترے شہر سے
میں سحاب بن کے ہواؤں میں تجھے ڈھونڈتا تھا فضاؤں میں
سو تِرے مکاں پہ برس پڑا جو گزر ہوا ترے شہر سے
تری رہگزر سے لگاؤ تھا، تِرے آستاں پہ پڑاؤ تھا
تِرا حکم تھا کہ سفر کروں سو میں چل پڑا ترے شہر سے