Showing posts with label اویس ملک. Show all posts
Showing posts with label اویس ملک. Show all posts

Tuesday, 20 January 2026

مری جان خانہ بدوش کو وہ سکوں ملا ترے شہر سے

 مِری جان خانہ بدوش کو وہ سکوں ملا تِرے شہر سے

کہ میں کوچ کرنے کے بعد بھی نہ بچھڑ سکا ترے شہر سے

میں سحاب بن کے ہواؤں میں تجھے ڈھونڈتا تھا فضاؤں میں

سو تِرے مکاں پہ برس پڑا جو گزر ہوا ترے شہر سے

تری رہگزر سے لگاؤ تھا، تِرے آستاں پہ پڑاؤ تھا

تِرا حکم تھا کہ سفر کروں سو میں چل پڑا ترے شہر سے

Tuesday, 6 May 2025

عجب ستم ہے کہ تیرے حصے سے گھٹ رہا ہوں

 عجب ستم ہے کہ تیرے حصے سے گھٹ رہا ہوں

میں تیرا ہو کر بھی اور لوگوں میں بٹ رہا ہوں

تو ایک سیل رواں کی صورت گزر رہا ہے

میں اک جزیرہ ہوں ہر کنارے سے کٹ رہا ہوں

کھلیں گے اسرار عشق عزلت نشینیوں میں

میں ایک دنیا سے ایک دل میں سمٹ رہا ہوں

Tuesday, 29 November 2022

ہو تو سکتا ہے کسی دیو کے جیسے میں بھی

تذبذب


ہو تو سکتا ہے کسی دیو کے جیسے میں بھی

لے اڑوں تجھ کو کہیں دور کی دنیاؤں میں

دل کی دیواروں میں لو تیری مقید کر کے

تشنہ آشاؤں کے قلعے کو منور کر لوں

خواب دیرینہ کی تعبیر بنا کر تجھ کو

اپنی آنکھوں کے کواڑوں میں مقفل کر لوں

Saturday, 19 November 2022

نارسائی کا جو دکھ ہے وہ ہمارا دکھ ہے

نارسائی


چودھویں رات کے چاند اور زمیں کے مابین

نارسائی کا جو دُکھ ہے وہ ہمارا دُکھ ہے

سُرمئ ہجر کی تا حد نظر پہنائی

انگنت تاروں کے جھُرمٹ میں چھپی تنہائی

چاند کے دُکھ کا مداوا نہیں یہ یکتائی

رُخ مہتاب کو چھونے کی لگن میں بے تاب