گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر
حیرت ہے حُسن حسرتِ دیدار دیکھ کر
نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی
جی بُجھ گیا ہے تم کو دلآزار دیکھ کر
اس دلفگار شوق کی حسرت نہ پوچھیے
مجروح ہو گیا ہو جو تلوار دیکھ کر
آنکھیں ہوئی تھیں چار کہ پہلو میں کچھ نہ تھا
دل کھو گیا نگاہِ خریدار دیکھ کر
کوئی کُھلا ہوا ہے تو کوئی چُھپا ہوا
واعظ نہ چھیڑ مجھ کو گُناہگار دیکھ کر
بے تاب کر دیا نگہِ التفات نے
آنسو نکل پڑے انہیں غمخوار دیکھ کر
کوکب دیارِ عشق کچھ ایسا اُداس ہے
روتی ہے بے کسی در و دیوار دیکھ کر
کوکب شاہجہانپوری
No comments:
Post a Comment