Wednesday, 19 August 2026

دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں

 دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں

لطف جینے کا اٹھانے کے لیے زندہ ہیں

فرق یہ کم ہے کہ تم اپنے لیے جیتے ہو

اور ہم سارے زمانے کے لیے زندہ ہیں

ٹوٹ کر بھی تو ہیں پیوستہ شجر سے اب تک

ہم نئی زندگی پانے کے لیے زندہ ہیں

وہ محافظ ہیں جنہیں تم نے کمانیں دی ہیں

بے کماں صرف نشانے کے لیے زندہ ہیں

حق دبایا ہے تو کچھ دیر دبائے رکھیے

لوگ ابھی شور مچانے کے لیے زندہ ہیں

اب سفر آخری تنہا نہ کرے گا کوئی

غم بہت ساتھ نبھانے کے لیے زندہ ہیں

ایسا لگتا ہے کہ ناراض ہے دنیا نظمی

اور ہم اس کو منانے کے لیے زندہ ہیں


نظمی سکندرآبادی

No comments:

Post a Comment