Showing posts with label آشا پربھات. Show all posts
Showing posts with label آشا پربھات. Show all posts

Saturday, 12 June 2021

ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے

 ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے

ملنا تھا اس لیے بھی سنورنا پڑا مجھے

آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات

ایک اس کی رہگزر پہ بکھرنا پڑا مجھے

کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط

جینے کی آرزو لیے مرنا پڑا مجھے

Friday, 11 June 2021

اکثر ایک پیڑ سفر میں بدل جاتا ہے

 اکثر 

ایک پیڑ 

سفر میں بدل جاتا ہے 

اور 

تمہارا چہرہ 

دھند میں کھو جاتا ہے 

Tuesday, 27 April 2021

دیر و حرم بھی آئے کئی اس سفر کے بیچ

 دیر و حرم بھی آئے کئی اس سفر کے بیچ

میری جبین شوق تِرے سنگ در کے بیچ

کچھ لذتِ گناہ بھی ہے کچھ خدا کا خوف

انسان جی رہا ہے اسی خیر و شر کے بیچ

یہ خواہش وصال ہے یا ہجر کا سلوک

چٹکی سی لی ہے درد نے آ کر جگر کے بیچ

Wednesday, 14 April 2021

رات آئی تو تڑپنے کے بہانے آئے

 رات آئی تو تڑپنے کے بہانے آئے 

اشک آنکھوں میں تو ہونٹوں پہ ترانے آئے 

پھر تصور میں ہی ہم روٹھ کے بدلے پہلو 

پھر خیالوں میں ہی وہ ہم کو منانے آئے 

ان کے کوچے میں جو اک عمر گزاری ہم نے 

یہ کہانی بھی وہ غیروں کو سنانے آئے 

Wednesday, 31 March 2021

ہر سو دھند کا پہرہ ہے

 میری اداس آنکھیں


ہر سُو 

دُھند کا پہرہ ہے 

رات خاموش ہے 

مٹ میلی چاندنی 

اُتر آئی ہے میرے آنگن میں 

Tuesday, 23 March 2021

میرے لب سلے ہیں

 میرے لب سلے ہیں


حسب معمول

اس بار بھی تم

میرے چہرے کا اپنے ہاتھوں سے کٹورا سا بناؤ گے

میرے لب چومو گے

اور بھر دو گے میرے آنچل کوعہد و پیماں کے جگنوؤں سے

Monday, 22 March 2021

ننھی چڑیا میرے اندر کہیں چپ سی پڑی ہے

 ننھی چڑیا


میرے اندر

کہیں چُپ سی پڑی ہے ایک ننھی چڑیا

وہ اب نہیں پھُدکتی، نہیں چہکتی

نہ ہی بارش میں

اپنے پر بھِگوتی ہے

Sunday, 21 March 2021

صلیب پر ٹنگے نصیب

صلیب پر ٹنگے نصیب

اٹھو

ہاتھ بڑھاؤ

اور

صلیب پر ٹنگے نصیب کو اتار لو

وہ بھی مضبوط ارادوں کی راہ دیکھتا ہے

تجھے ہر گلی ہر نگر ڈھونڈتے ہیں

 تجھے ہر گلی، ہر نگر ڈھونڈتے ہیں

نہیں کچھ بھی حاصل، مگر ڈھونڈتے ہیں

بنا دے جو صحرا کو پھر سے گُلستاں

ہم ایسی نسیمِ سحر ڈھونڈتے ہیں

لُٹے آشیانوں کے آوارہ پنچھی

نہ جانے کہاں اپنا گھر ڈھونڈتے ہیں