ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے
ملنا تھا اس لیے بھی سنورنا پڑا مجھے
آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات
ایک اس کی رہگزر پہ بکھرنا پڑا مجھے
کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط
جینے کی آرزو لیے مرنا پڑا مجھے
ہر لمحہ چاند چاند نکھرنا پڑا مجھے
ملنا تھا اس لیے بھی سنورنا پڑا مجھے
آمد پہ اس کی پھول کی صورت تمام رات
ایک اس کی رہگزر پہ بکھرنا پڑا مجھے
کیسی یہ زندگی نے لگائی عجیب شرط
جینے کی آرزو لیے مرنا پڑا مجھے
اکثر
ایک پیڑ
سفر میں بدل جاتا ہے
اور
تمہارا چہرہ
دھند میں کھو جاتا ہے
دیر و حرم بھی آئے کئی اس سفر کے بیچ
میری جبین شوق تِرے سنگ در کے بیچ
کچھ لذتِ گناہ بھی ہے کچھ خدا کا خوف
انسان جی رہا ہے اسی خیر و شر کے بیچ
یہ خواہش وصال ہے یا ہجر کا سلوک
چٹکی سی لی ہے درد نے آ کر جگر کے بیچ
رات آئی تو تڑپنے کے بہانے آئے
اشک آنکھوں میں تو ہونٹوں پہ ترانے آئے
پھر تصور میں ہی ہم روٹھ کے بدلے پہلو
پھر خیالوں میں ہی وہ ہم کو منانے آئے
ان کے کوچے میں جو اک عمر گزاری ہم نے
یہ کہانی بھی وہ غیروں کو سنانے آئے
میری اداس آنکھیں
ہر سُو
دُھند کا پہرہ ہے
رات خاموش ہے
مٹ میلی چاندنی
اُتر آئی ہے میرے آنگن میں
میرے لب سلے ہیں
حسب معمول
اس بار بھی تم
میرے چہرے کا اپنے ہاتھوں سے کٹورا سا بناؤ گے
میرے لب چومو گے
اور بھر دو گے میرے آنچل کوعہد و پیماں کے جگنوؤں سے
ننھی چڑیا
میرے اندر
کہیں چُپ سی پڑی ہے ایک ننھی چڑیا
وہ اب نہیں پھُدکتی، نہیں چہکتی
نہ ہی بارش میں
اپنے پر بھِگوتی ہے
صلیب پر ٹنگے نصیب
اٹھو
ہاتھ بڑھاؤ
اور
صلیب پر ٹنگے نصیب کو اتار لو
وہ بھی مضبوط ارادوں کی راہ دیکھتا ہے
تجھے ہر گلی، ہر نگر ڈھونڈتے ہیں
نہیں کچھ بھی حاصل، مگر ڈھونڈتے ہیں
بنا دے جو صحرا کو پھر سے گُلستاں
ہم ایسی نسیمِ سحر ڈھونڈتے ہیں
لُٹے آشیانوں کے آوارہ پنچھی
نہ جانے کہاں اپنا گھر ڈھونڈتے ہیں