تجھے ہر گلی، ہر نگر ڈھونڈتے ہیں
نہیں کچھ بھی حاصل، مگر ڈھونڈتے ہیں
بنا دے جو صحرا کو پھر سے گُلستاں
ہم ایسی نسیمِ سحر ڈھونڈتے ہیں
لُٹے آشیانوں کے آوارہ پنچھی
نہ جانے کہاں اپنا گھر ڈھونڈتے ہیں
ہر اک دردِ دل کو زباں دے سکے جو
ہم اشکوں میں بس وہ اثر ڈھونڈتے ہیں
نئے دور کا ہے مقدر اندھیرا
مگر پھر بھی آشا سحر ڈھونڈتے ہیں
آشا پربھات
No comments:
Post a Comment