باطل و نا حق سے امید کرم کرتے رہے
جو نہ کرنا تھا ہمیں وہ کام ہم کرتے رہے
ضبط کر سکتے تھے آخر ضبط ہم کرتے رہے
کام تھا جن کا ستم کرنا، ستم کرتے رہے
زندگی بھر مسکرائے بے سبب ہم دوستو
زندگی بھر زیست کی تلخی کو کم کرتے رہے
باطل و نا حق سے امید کرم کرتے رہے
جو نہ کرنا تھا ہمیں وہ کام ہم کرتے رہے
ضبط کر سکتے تھے آخر ضبط ہم کرتے رہے
کام تھا جن کا ستم کرنا، ستم کرتے رہے
زندگی بھر مسکرائے بے سبب ہم دوستو
زندگی بھر زیست کی تلخی کو کم کرتے رہے
عشق کیا شے ہے دوست کیا کہیۓ
خوبصورت سی اک خطا کہیۓ
سب کے اپنے معاملے ہیں جناب
کس کو اچھا کسے برا کہیۓ
نور اس کا، ظہور اس کا ہے
دیکھیۓ، اور مرحبا کہیۓ
اب تو اِک غم ہے مِرا اپنا بھی بیگانہ بھی
ہاں، کبھی پہلے مسرّت سے تھا یارانہ بھی
پاسِ مسجد بھی اسے پاسِ صنم خانہ بھی
دل ہے ناداں بھی بہت اور بہت دانا بھی
شیخ جی! گھرسے نکلتا ہوں میں مسجد کیلئے
کیا کروں راہ میں آ جاتا ہے مے خانہ بھی
کوئی شکوہ تھا، شکایت تھی، گِلا، تھا کیا تھا؟
اس نے جو کان میں چپکے سے کہا تھا کیا تھا
بھول کچھ مجھ سے ہوئی تھی کہ خطا اس کی تھی
جو سبب ترکِ تعلق کا بنا تھا کیا تھا
سوچتا ہوں وہ تھا دیوانہ کہ تھا سودائی
پیار میں تُو نے جو اک نام دیا تھا کیا تھا
کوئی تو راہ دے رہبروں کی طرح
ہو کوئی میل کے پتھروں کی طرح
مشورے ہم بھی دنیا سے کر لیں جناب
مشورے تو ملیں مشورں کی طرح
ایک دِن تیرا مغرور سر ہو گا خم
اے ستمگر! یزیدی سَروں کی طرح
مجنوں سا عشق، جذبۂ لیلیٰ بھی چاہیۓ
چاہت میں جان دینے کا جذبہ بھی چاہیۓ
اس ربِ کائنات کا جلوہ بھی چاہیۓ
آنکھوں کو اس جہاں کا تماشا بھی چاہیۓ
اچھا نہیں ہے جیتے جی ہو جانا مطمئن
قرطاسِ دل کو حرفِ تمنا بھی چاہیۓ
میں نے جب جب بھی تِرا نام لکھا کاغذ پر
یوں لگا جیسے کوئی پھول کھلا کاغذ پر
ایک مدت سے ملاقات کو بے چین ہے دل
بھیج دے لکھ کے مجھے اپنا پتا کاغذ پر
خط تِرا جب بھی کوئی میں نے پرانا کھولا
تو اُبھر آیا حسیں نقش تِرا کاغذ پر