Showing posts with label تنویر گوہر. Show all posts
Showing posts with label تنویر گوہر. Show all posts

Saturday, 2 March 2024

کھوٹ نیت میں رہا اور سر کو خم کرتے رہے

 باطل و نا حق سے امید کرم کرتے رہے 

جو نہ کرنا تھا ہمیں وہ کام ہم کرتے رہے 

ضبط کر سکتے تھے آخر ضبط ہم کرتے رہے 

کام تھا جن کا ستم کرنا، ستم کرتے رہے 

زندگی بھر مسکرائے بے سبب ہم دوستو 

زندگی بھر زیست کی تلخی کو کم کرتے رہے 

Sunday, 10 July 2022

عشق کیا شے ہے دوست کیا کہئے

 عشق کیا شے ہے دوست کیا کہیۓ

خوبصورت سی اک خطا کہیۓ

سب کے اپنے معاملے ہیں جناب

کس کو اچھا کسے برا کہیۓ

نور اس کا، ظہور اس کا ہے

دیکھیۓ، اور مرحبا کہیۓ

Wednesday, 27 October 2021

اب تو اک غم ہے مرا اپنا بھی بیگانہ بھی

 اب تو اِک غم ہے مِرا اپنا بھی بیگانہ بھی

ہاں، کبھی پہلے مسرّت سے تھا یارانہ بھی

پاسِ مسجد بھی اسے پاسِ صنم خانہ بھی

دل ہے ناداں بھی بہت اور بہت دانا بھی

شیخ جی! گھرسے نکلتا ہوں میں مسجد کیلئے

کیا کروں راہ میں آ جاتا ہے مے خانہ بھی

Friday, 22 October 2021

کوئی شکوہ تھا شکایت تھی گلا تھا کیا تھا

کوئی شکوہ تھا، شکایت تھی، گِلا، تھا کیا تھا؟

اس نے جو کان میں چپکے سے کہا تھا کیا تھا

بھول کچھ مجھ سے ہوئی تھی کہ خطا اس کی تھی

جو سبب ترکِ تعلق کا بنا تھا کیا تھا

سوچتا ہوں وہ تھا دیوانہ کہ تھا سودائی

پیار میں تُو نے جو اک نام دیا تھا کیا تھا

Thursday, 21 October 2021

کوئی تو راہ دے رہبروں کی طرح

 کوئی تو راہ دے رہبروں کی طرح

ہو کوئی میل کے پتھروں کی طرح

مشورے ہم بھی دنیا سے کر لیں جناب

مشورے تو ملیں مشورں کی طرح

ایک دِن تیرا مغرور سر ہو گا خم

اے ستمگر! یزیدی سَروں کی طرح

Wednesday, 20 October 2021

مجنوں سا عشق جذبۂ لیلیٰ بھی چاہئے

 مجنوں سا عشق، جذبۂ لیلیٰ بھی چاہیۓ

چاہت میں جان دینے کا جذبہ بھی چاہیۓ

اس ربِ کائنات کا جلوہ بھی چاہیۓ

آنکھوں کو اس جہاں کا تماشا بھی چاہیۓ

اچھا نہیں ہے جیتے جی ہو جانا مطمئن

قرطاسِ دل کو حرفِ تمنا بھی چاہیۓ

Thursday, 5 August 2021

میں نے جب جب بھی ترا نام لکھا کاغذ پر

 میں نے جب جب بھی تِرا نام لکھا کاغذ پر

یوں لگا جیسے کوئی پھول کھلا کاغذ پر

ایک مدت سے ملاقات کو بے چین ہے دل

بھیج دے لکھ کے مجھے اپنا پتا کاغذ پر

خط تِرا جب بھی کوئی میں نے پرانا کھولا

تو اُبھر آیا حسیں نقش تِرا کاغذ پر