محبت کا وظیفہ جانتا ہے
یہ دل اِک اسم ایسا جانتا ہے
مِرے بارے میں کوئی رائے مت دے
مِرے بارے میں تُو کیا جانتا ہے؟
مِری آنکھوں کو لہریں پوجتی ہیں
مِری کشتی کو دریا جانتا ہے
محبت کا وظیفہ جانتا ہے
یہ دل اِک اسم ایسا جانتا ہے
مِرے بارے میں کوئی رائے مت دے
مِرے بارے میں تُو کیا جانتا ہے؟
مِری آنکھوں کو لہریں پوجتی ہیں
مِری کشتی کو دریا جانتا ہے
اشک اظہار کی علامت ہے
رنج کردار کی علامت ہے
کیا کہا؛ عشق ہو گیا تجھ کو
عشق تو دار کی علامت ہے
کھول کر آنکھ دیکھ دنیا کو
خواب بے کار کی علامت ہے
کیا ضروری ہے خسارے پہ خسارہ کرنا
دل کی مت ماننا مت عشق دوبارہ کرنا
جس سخن میں مِرا پیغامِ محبت تھا نہاں
وہ سخن یاد کبھی اے سخن آرا، کرنا
میں تو جان اپنی ہتھیلی پہ لیے بیٹھا ہوں
جب ضرورت ہو تو ہلکا سا اشارہ کرنا
کشتیاں ڈالتے ہیں پانی میں
آج طبع ہے کچھ روانی میں
جی رہا ہوں میں آج تک خوش خوش
تیری بھیجی ہوئی نشانی میں
صرف ہوتے ہیں رات دن ہم لوگ
لغزشِ رنج رائیگانی میں
آنکھوں کے انتخاب کا صدقہ اتاریئے
گر ہو سکے تو خواب کا صدقہ اتاریئے
کربِ فراقِ یار سے مرنے کو ہے یہ دل
اس خانماں خراب کا صدقہ اتاریئے
جی بھر کے دیکھیۓ اسے پھر رات رات بھر
پہلے تو ماہتاب کا صدقہ اتاریئے
احساسِ محرومی (پردیس میں رہتے ہوئے)
کتنے دن ہو گئے
گھر سے آئے ہوئے
آ کے پردیس میں جاں لگائے ہوئے
دل وہیں رہ گیا
اپنے بچوں کے پاس
کہانی کار کہتا ہے سبھی کردار بِکتے ہیں
سبھی کردار بکتے ہیں کہانی کار بکتے ہیں
فقط اتنا بتا دیجے کہ صاحب کیا خریدیں گے
یہاں مضمون بکتے ہیں، یہاں اشعار بکتے ہیں
میں اپنے اشک پیتا ہوں بہت مشکل سے جیتا ہوں
محبت ظلم ڈھاتی ہے مِرے اعزار بکتے ہیں
دیکھنا کیا ہے کہ اس منظر میں یکجا کیا ہوا
سارا عالم خواب ہے، لیکن مرا دیکھا ہوا
درد و غم لکھے تو مجھ پر کُھل گئی راہِ سخن
اشک کو کھنچا تو اک جادو بھرا مصرعہ ہوا
سوچتے ہی سوچتے آنکھوں میں آنسو آ گئے
دیکھتے ہی دیکھتے وہ آئینہ دھندلا ہوا