Showing posts with label اسد کمال. Show all posts
Showing posts with label اسد کمال. Show all posts

Tuesday, 30 November 2021

محبت کا وظیفہ جانتا ہے

 محبت کا وظیفہ جانتا ہے 

یہ دل اِک اسم ایسا جانتا ہے 

مِرے بارے میں کوئی رائے مت دے 

مِرے بارے میں تُو کیا جانتا ہے؟

مِری آنکھوں کو لہریں پوجتی ہیں 

مِری کشتی کو دریا جانتا ہے

Sunday, 21 November 2021

اشک اظہار کی علامت ہے

 اشک اظہار کی علامت ہے

رنج کردار کی علامت ہے

کیا کہا؛ عشق ہو گیا تجھ کو

عشق تو دار کی علامت ہے

کھول کر آنکھ دیکھ دنیا کو

خواب بے کار کی علامت ہے

Friday, 5 November 2021

کیا ضروری ہے خسارے پہ خسارہ کرنا

 کیا ضروری ہے خسارے پہ خسارہ کرنا

دل کی مت ماننا مت عشق دوبارہ کرنا

جس سخن میں مِرا پیغامِ محبت تھا نہاں

وہ سخن یاد کبھی اے سخن آرا، کرنا

میں تو جان اپنی ہتھیلی پہ لیے بیٹھا ہوں

جب ضرورت ہو تو ہلکا سا اشارہ کرنا

Sunday, 31 October 2021

کشتیاں ڈالتے ہیں پانی میں

 کشتیاں ڈالتے ہیں پانی میں

آج طبع ہے کچھ روانی میں

جی رہا ہوں میں آج تک خوش خوش

تیری بھیجی ہوئی نشانی میں

صرف ہوتے ہیں رات دن ہم لوگ

لغزشِ رنج رائیگانی میں

Friday, 29 October 2021

آنکھوں کے انتخاب کا صدقہ اتارئیے

 آنکھوں کے انتخاب کا صدقہ اتاریئے

گر ہو سکے تو خواب کا صدقہ اتاریئے

کربِ فراقِ یار سے مرنے کو ہے یہ دل

اس خانماں خراب کا صدقہ اتاریئے

جی بھر کے دیکھیۓ اسے پھر رات رات بھر

پہلے تو ماہتاب کا صدقہ اتاریئے

Thursday, 28 October 2021

کتنے دن ہو گئے گھر سے آئے ہوئے

 احساسِ محرومی (پردیس میں رہتے ہوئے)


کتنے دن ہو گئے

گھر سے آئے ہوئے

آ کے پردیس میں جاں لگائے ہوئے

دل وہیں رہ گیا

اپنے بچوں کے پاس

Thursday, 9 September 2021

کہانی کار کہتا ہے سبھی کردار بکتے ہیں

 کہانی کار کہتا ہے سبھی کردار بِکتے ہیں

سبھی کردار بکتے ہیں کہانی کار بکتے ہیں

فقط اتنا بتا دیجے کہ صاحب کیا خریدیں گے

یہاں مضمون بکتے ہیں، یہاں اشعار بکتے ہیں

میں اپنے اشک پیتا ہوں بہت مشکل سے جیتا ہوں

محبت ظلم ڈھاتی ہے مِرے اعزار بکتے ہیں

Saturday, 28 November 2020

دیکھنا کیا ہے کہ اس منظر میں یکجا کیا ہوا

 دیکھنا کیا ہے کہ اس منظر میں یکجا کیا ہوا

سارا عالم خواب ہے، لیکن مرا دیکھا ہوا

درد و غم لکھے تو مجھ پر کُھل گئی راہِ سخن

اشک کو کھنچا تو اک جادو بھرا مصرعہ ہوا

سوچتے ہی سوچتے آنکھوں میں آنسو آ گئے

دیکھتے ہی دیکھتے وہ آئینہ دھندلا ہوا