Showing posts with label عابد سیال. Show all posts
Showing posts with label عابد سیال. Show all posts

Friday, 1 July 2022

رکو وہم و شبہات کا وقت ہے

 رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے

کہاں جاؤ گے، رات کا وقت ہے

کسی بھاری پتھر تلے دے کے دل

یہ تخفیفِ جذبات کا وقت ہے

بدلنے پہ اس کے نہ یوں رنج کر

یہ معمولی اوقات کا وقت ہے

Saturday, 9 April 2022

اور تو کچھ نہیں ادھر میرا

 اور تو کچھ نہیں اِدھر میرا

اِک گزارا ہے خواب پر میرا

میں خبر گیریوں کے نرغے میں

دُور بیٹھا ہے بے خبر میرا

ہے یونہی صرفِ کارِ بے مصرف

یہ زرِ عمر بیشتر میرا

Saturday, 26 February 2022

یہاں منصفی کی روایت نہیں

 یہاں منصفی کی روایت نہیں

ہماری یہ پہلی شکایت نہیں

نمک والی لذت الگ چیز ہے

یہ شیرینی کرتی کفایت نہیں

مداوا بھی کچھ داد کے ساتھ ساتھ

کہ احوالِ دل تھا، حکایت نہیں

Wednesday, 9 February 2022

دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے

 دور دیسوں سے بُلائے بھی نہیں جا سکتے

وہ پکھیرو جو بُھلائے بھی نہیں جا سکتے

تُرش خُو، تیز مزہ پھل ہیں یہاں کے اور ہم

بِنا چکھے، بِنا کھائے بھی نہیں جا سکتے

حیرتِ مرگ، بلاوہ ہے یہ اس جانب سے

جس طرف دھیان کے سائے بھی نہیں جا سکتے

Tuesday, 8 February 2022

اجڑا اجڑا، بکھرا بکھرا، خاک بسر کوئی ہے

 اجڑا اجڑا، بکھرا بکھرا، خاک بسر کوئی ہے

کھولو شہر کا دروازہ، دروازے پر کوئی ہے

کبھی کبھی رغبت ہوتی ہے روز کی چیزوں سے

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے اپنا گھر کوئی ہے

میں اندر کے رستے پر تھا، کیسے دھیان بٹا

میرے وہم کی آوازیں ہیں یا باہر کوئی ہے

Saturday, 5 February 2022

جو میسر ہے یہاں اتنا بھی اس پار نہ ہو

 جو میسر ہے یہاں، اِتنا بھی اُس پار نہ ہو

ایسی جلدی میں اُدھر جانے کو تیار نہ ہو

دیکھ سوداگرئ دنیا کہ کچھ دیر کے بعد

تُو طلب گارِ تماشا ہو تو بازار نہ ہو

پیچ پڑتا ہے ابھی ریت میں اور پاؤں میں

جس کنارے پہ لگا ہوں، کہیں منجدھار نہ ہو

سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں

 سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں

نامرادانہ اب اس شہر سے جانے کا نہیں

بات جو سہج بنائی تھی وہ بے ڈھب نکلی

لفظ جو چن کے بٹھایا تھا ٹھکانے کا نہیں

کارِ بے کار کی تکرار لگے میل ملاپ

مسئلہ اور ہے کچھ، نِبھنے نبھانے کا نہیں

Sunday, 10 January 2021

کف خزاں پہ کھلا میں اس اعتبار کے ساتھ

 کف خزاں پہ کھلا میں اس اعتبار کے ساتھ

کہ ہر نمو کا تعلق نہیں بہار کے ساتھ

وہ ایک خموش پرندہ شجر کے ساتھ رہا

چہکنے والے گئے باد سازگار کے ساتھ

کھلے دروں سے طلب گار خواب گاہیں مگر

میں جاگتا رہا اک خواب ہمکنار کے ساتھ

Tuesday, 6 October 2020

کسی مورت جیسی صورت پر اک سایہ نور اجالوں کا

 کسی مورت جیسی صورت پر اک سایہ نور اجالوں کا

کسی چال جمال خیال کی چھب پر واہمہ پڑے غزالوں کا

اس شہر کا جب بھی حال سنے، دل اندیشوں کے جال بنے

جس کی گلیوں میں بکھرا ہے سرمایہ گزرے سالوں کا

کسی بانکے پیڑ کی لچکیلی بانہوں میں کریں آنکھیں گیلی

کسی نرم ہوا کے پھاہوں سے کریں درماں دل کے چھالوں کا

جیے نہ قرب میں فرقت میں مر نہیں پائے

 جیے نہ قرب میں، فرقت میں مر نہیں پائے

کیا ہے عشق، سلیقے سے کر نہیں پائے

بہت سنبھال کے رکھے ہیں تیری یاد کے پَل

کسی ہوا سے یہ ریزے بکھر نہیں پائے

لہو سے سینچتے رہتے ہیں نخلِ ہجر تِرا

کہ تُو جب آئے، اسے بے ثمر نہیں پائے

Sunday, 4 October 2020

لذت انتظار بھی میں بھی

 لذتِ انتظار بھی، میں بھی

منتظر رہگزار بھی، میں بھی

دور تک ساتھ ساتھ چلتے رہے

ساعتِ سوگوار بھی، میں بھی

خود اسیری کی ایک منزل پر

راستے کا غبار بھی، میں بھی

خبر سمجھ کے سراب خبر میں کھویا ہوا

 خبر سمجھ کے سرابِ خبر میں کھویا ہوا

عجیب شہر ہے یہ جاگتے میں سویا ہوا

جو آج منزلِ مژگاں پہ آ کے ٹھہرا ہے

یہ اشک پہلے کسی وقت کا ہے رویا ہوا

وہ دیکھنا ہے جو اپنی نظر کا قرض نہیں

وہ کاٹنا ہے جو اپنا نہیں ہے بویا ہوا

Saturday, 3 October 2020

کون سی بستی میں محوِ خواب تھے

 کون سی بستی میں محوِ خواب تھے


کون سی بستی میں محوِ خواب تھے

کون سے سپنے ادھورے چھوڑ کر

صبح کی آہٹ پہ جاگے نیند سے

ذائقوں کے کس نگر سے آیا تھا

گرم سانسیں چھوڑتا مشروبِ صبح

کس گلی کے موڑ پر ٹھہرے ذرا

Friday, 2 October 2020

بھلائیں گے اسے لیکن ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

 بھلائیں گے اسے

لیکن

ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

ابھی رستے میں ہے وہ موج ساحل تک نہیں پہنچی

جو گیلی ریت کی چادر پہ بکھرے

اس کے قدموں کے نشاں

وارفتگی سے چوم کر معدوم کر ڈالے

دل ایسے خانۂ وحشت میں جاگزیں کوئی ہو

 دل ایسے خانۂ وحشت میں جاگزیں کوئی ہو

مکین ہم کو ہے درکار، تُو نہیں، کوئی ہو

کوئی تو ہو گا بشارت سنانے والا بھی

اور اس پہ یہ بھی ہے ممکن یہیں کہیں کوئی ہو

دِلا💗! اب ایسی تمنا کا کیا کِیا جائے

جہاں جہاں تُو پکارے وہیں وہیں کوئی ہو

Thursday, 1 October 2020

اک آخری سفر کی کہانی ہوا میں ہے

 اِک آخری سفر کی کہانی ہَوا میں ہے

بکھرے ہوئے پَروں کی نشانی ہوا میں ہے

گُھلنے لگے ہیں سانس میں نمکین ذائقے

جیسے کسی کی آنکھ کا پانی ہوا میں ہے

آتی ہے اڑ کے آنکھ میں لاحاصلی کی ریت

اب تک گئے دنوں کی گرانی ہوا میں ہے

پلٹ کے آ کہ یہ آزار پھر رہے نہ رہے

 پلٹ کے آ کہ یہ آزار پھر رہے نہ رہے

جو آنکھ اب ہے طلبگار پھر رہے نہ رہے

نگاہ کر انہی تاریکیوں کے موسم میں

یہ روشنی مجھے درکار پھر رہے نہ رہے

سمیٹ لوں تِرے چہرے کی لَو نگاہوں میں

یہ منظرِ شفق آثار پھر رہے نہ رہے

Wednesday, 30 September 2020

کہیں سے باس نئے موسموں کی لاتی ہوئی

 کہیں سے باس نئے موسموں کی لاتی ہوئی

ہوائے تازہ درِ نیم وا سے آتی ہوئی

بطور خاص کہاں اس نگر صبا کا ورود

کبھی کبھی یوں ہی رکتی ہے آتی جاتی ہوئی

میں اپنے دھیان میں گم صم اور ایک ساعتِ شوخ

گزر گئی مِری حالت پہ مسکراتی ہوئی