رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے
کہاں جاؤ گے، رات کا وقت ہے
کسی بھاری پتھر تلے دے کے دل
یہ تخفیفِ جذبات کا وقت ہے
بدلنے پہ اس کے نہ یوں رنج کر
یہ معمولی اوقات کا وقت ہے
رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے
کہاں جاؤ گے، رات کا وقت ہے
کسی بھاری پتھر تلے دے کے دل
یہ تخفیفِ جذبات کا وقت ہے
بدلنے پہ اس کے نہ یوں رنج کر
یہ معمولی اوقات کا وقت ہے
اور تو کچھ نہیں اِدھر میرا
اِک گزارا ہے خواب پر میرا
میں خبر گیریوں کے نرغے میں
دُور بیٹھا ہے بے خبر میرا
ہے یونہی صرفِ کارِ بے مصرف
یہ زرِ عمر بیشتر میرا
یہاں منصفی کی روایت نہیں
ہماری یہ پہلی شکایت نہیں
نمک والی لذت الگ چیز ہے
یہ شیرینی کرتی کفایت نہیں
مداوا بھی کچھ داد کے ساتھ ساتھ
کہ احوالِ دل تھا، حکایت نہیں
دور دیسوں سے بُلائے بھی نہیں جا سکتے
وہ پکھیرو جو بُھلائے بھی نہیں جا سکتے
تُرش خُو، تیز مزہ پھل ہیں یہاں کے اور ہم
بِنا چکھے، بِنا کھائے بھی نہیں جا سکتے
حیرتِ مرگ، بلاوہ ہے یہ اس جانب سے
جس طرف دھیان کے سائے بھی نہیں جا سکتے
اجڑا اجڑا، بکھرا بکھرا، خاک بسر کوئی ہے
کھولو شہر کا دروازہ، دروازے پر کوئی ہے
کبھی کبھی رغبت ہوتی ہے روز کی چیزوں سے
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے اپنا گھر کوئی ہے
میں اندر کے رستے پر تھا، کیسے دھیان بٹا
میرے وہم کی آوازیں ہیں یا باہر کوئی ہے
جو میسر ہے یہاں، اِتنا بھی اُس پار نہ ہو
ایسی جلدی میں اُدھر جانے کو تیار نہ ہو
دیکھ سوداگرئ دنیا کہ کچھ دیر کے بعد
تُو طلب گارِ تماشا ہو تو بازار نہ ہو
پیچ پڑتا ہے ابھی ریت میں اور پاؤں میں
جس کنارے پہ لگا ہوں، کہیں منجدھار نہ ہو
سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں
نامرادانہ اب اس شہر سے جانے کا نہیں
بات جو سہج بنائی تھی وہ بے ڈھب نکلی
لفظ جو چن کے بٹھایا تھا ٹھکانے کا نہیں
کارِ بے کار کی تکرار لگے میل ملاپ
مسئلہ اور ہے کچھ، نِبھنے نبھانے کا نہیں
کف خزاں پہ کھلا میں اس اعتبار کے ساتھ
کہ ہر نمو کا تعلق نہیں بہار کے ساتھ
وہ ایک خموش پرندہ شجر کے ساتھ رہا
چہکنے والے گئے باد سازگار کے ساتھ
کھلے دروں سے طلب گار خواب گاہیں مگر
میں جاگتا رہا اک خواب ہمکنار کے ساتھ
کسی مورت جیسی صورت پر اک سایہ نور اجالوں کا
کسی چال جمال خیال کی چھب پر واہمہ پڑے غزالوں کا
اس شہر کا جب بھی حال سنے، دل اندیشوں کے جال بنے
جس کی گلیوں میں بکھرا ہے سرمایہ گزرے سالوں کا
کسی بانکے پیڑ کی لچکیلی بانہوں میں کریں آنکھیں گیلی
کسی نرم ہوا کے پھاہوں سے کریں درماں دل کے چھالوں کا
جیے نہ قرب میں، فرقت میں مر نہیں پائے
کیا ہے عشق، سلیقے سے کر نہیں پائے
بہت سنبھال کے رکھے ہیں تیری یاد کے پَل
کسی ہوا سے یہ ریزے بکھر نہیں پائے
لہو سے سینچتے رہتے ہیں نخلِ ہجر تِرا
کہ تُو جب آئے، اسے بے ثمر نہیں پائے
لذتِ انتظار بھی، میں بھی
منتظر رہگزار بھی، میں بھی
دور تک ساتھ ساتھ چلتے رہے
ساعتِ سوگوار بھی، میں بھی
خود اسیری کی ایک منزل پر
راستے کا غبار بھی، میں بھی
خبر سمجھ کے سرابِ خبر میں کھویا ہوا
عجیب شہر ہے یہ جاگتے میں سویا ہوا
جو آج منزلِ مژگاں پہ آ کے ٹھہرا ہے
یہ اشک پہلے کسی وقت کا ہے رویا ہوا
وہ دیکھنا ہے جو اپنی نظر کا قرض نہیں
وہ کاٹنا ہے جو اپنا نہیں ہے بویا ہوا
کون سی بستی میں محوِ خواب تھے
کون سی بستی میں محوِ خواب تھے
کون سے سپنے ادھورے چھوڑ کر
صبح کی آہٹ پہ جاگے نیند سے
ذائقوں کے کس نگر سے آیا تھا
گرم سانسیں چھوڑتا مشروبِ صبح
کس گلی کے موڑ پر ٹھہرے ذرا
بھلائیں گے اسے
لیکن
ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
ابھی رستے میں ہے وہ موج ساحل تک نہیں پہنچی
جو گیلی ریت کی چادر پہ بکھرے
اس کے قدموں کے نشاں
وارفتگی سے چوم کر معدوم کر ڈالے
دل ایسے خانۂ وحشت میں جاگزیں کوئی ہو
مکین ہم کو ہے درکار، تُو نہیں، کوئی ہو
کوئی تو ہو گا بشارت سنانے والا بھی
اور اس پہ یہ بھی ہے ممکن یہیں کہیں کوئی ہو
دِلا💗! اب ایسی تمنا کا کیا کِیا جائے
جہاں جہاں تُو پکارے وہیں وہیں کوئی ہو
اِک آخری سفر کی کہانی ہَوا میں ہے
بکھرے ہوئے پَروں کی نشانی ہوا میں ہے
گُھلنے لگے ہیں سانس میں نمکین ذائقے
جیسے کسی کی آنکھ کا پانی ہوا میں ہے
آتی ہے اڑ کے آنکھ میں لاحاصلی کی ریت
اب تک گئے دنوں کی گرانی ہوا میں ہے
پلٹ کے آ کہ یہ آزار پھر رہے نہ رہے
جو آنکھ اب ہے طلبگار پھر رہے نہ رہے
نگاہ کر انہی تاریکیوں کے موسم میں
یہ روشنی مجھے درکار پھر رہے نہ رہے
سمیٹ لوں تِرے چہرے کی لَو نگاہوں میں
یہ منظرِ شفق آثار پھر رہے نہ رہے
کہیں سے باس نئے موسموں کی لاتی ہوئی
ہوائے تازہ درِ نیم وا سے آتی ہوئی
بطور خاص کہاں اس نگر صبا کا ورود
کبھی کبھی یوں ہی رکتی ہے آتی جاتی ہوئی
میں اپنے دھیان میں گم صم اور ایک ساعتِ شوخ
گزر گئی مِری حالت پہ مسکراتی ہوئی