اجڑا اجڑا، بکھرا بکھرا، خاک بسر کوئی ہے
کھولو شہر کا دروازہ، دروازے پر کوئی ہے
کبھی کبھی رغبت ہوتی ہے روز کی چیزوں سے
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے اپنا گھر کوئی ہے
میں اندر کے رستے پر تھا، کیسے دھیان بٹا
میرے وہم کی آوازیں ہیں یا باہر کوئی ہے
ہر آواز کی تہہ میں جیسے اور آواز کوئی
ہر منظر کے پیچھے جیسے اک منظر کوئی ہے
مرضی کی مُہریں ہیں کانوں اور زبانوں پر
بولنا ہر اِک کو آتا ہے، سنتا ہر کوئی ہے
حوصلہ ہمت پانی پانی اور ارادے ریت
دل سہماتا، جان گھلاتا ایسا ڈر کوئی ہے
عابد سیال
No comments:
Post a Comment