Showing posts with label شکیل دسنوی. Show all posts
Showing posts with label شکیل دسنوی. Show all posts

Sunday, 16 October 2022

اتنی مدت بعد ملے ہو کچھ تو دل کا حال کہو

 اتنی مدت بعد ملے ہو کچھ تو دل کا حال کہو

کیسے بیتے ہم بن پیارے اتنے ماہ و سال کہو

رُوپ کا دھوکا سمجھو نظر کا یا پھر مایا جال کہو

پریت کو دل کا روگ سمجھ لو یا جی کا جنجال کہو

آنکھوں دیکھی کیا بتلائیں حال عجب کچھ دیکھا ہے

دُکھ کی کھیتی کتنی ہری اور سُکھ کا جیسے کال کہو

Monday, 18 October 2021

تجھ سے ٹوٹا ربط تو پھر اور کیا رہ جائے گا

 تجھ سے ٹوٹا ربط تو پھر اور کیا رہ جائے گا

انتشار ذات کا اک سلسلہ رہ جائے گا

قربتیں مٹ جائیں گی اور فاصلہ رہ جائے گا

چند یادوں کے سوا بس اور کیا رہ جائے گا

یہ تغافل ایک دن اک سانحہ بن جائے گا

عکس تو کھو جائے گا اور آئنہ رہ جائے گا

Friday, 8 October 2021

عقب سے وار تھا آخر میں آہ کیا کرتا

 عقب سے وار تھا آخر میں آہ کیا کرتا

کسی بھی آڑ میں لے کر پناہ کیا کرتا

غریب شہر تھا آنکھوں میں تھی انا زندہ

سزائے موت نہ دیتا تو شاہ کیا کرتا

مِرے خلوص کو جو سکۂ غرض سمجھا

میں ایسے شخص سے آخر نِباہ کیا کرتا

Tuesday, 5 October 2021

سایہ کہیں نہ کوئی شجر مجھ کو اس سے کیا

 سایہ کہیں نہ کوئی شجر مجھ کو اس سے کیا

بے چین ہے یہ دھوپ اگر مجھ کو اس سے کیا

وہ جو حصارِ ذات سے نکلا نہیں کبھی

کر لے وہ آسماں کا سفر مجھ کو اس سے کیا

وہ سر مِرا اتار کر قامت میں مجھ سے بڑھ گیا

دیکھے وہ ایسے خواب اگر مجھ کو اس سے کیا

کیا تم بھی طریقہ نیا ایجاد کرو ہو

 کیا تم بھی طریقہ نیا ایجاد کرو ہو

خود اپنا بنا کر مجھے برباد کرو ہو

رکھو ہو ہر اک بار فسانے کو ادھورا

کب اپنے ستم شاملِ روداد کرو ہو

لگتا نہیں دلچسپ جو شیریں کا فسانہ

کیوں ذکرِ وفا کوشئ فرہاد کرو ہو

Monday, 4 October 2021

چھوٹی سی یہ بات سہی پر کھینچے ہے یہ طول میاں

 چھوٹی سی یہ بات سہی پر کھینچے ہے یہ طول میاں

جیون بھر کا روگ بنے ہے دو آنکھوں کی بھول میاں

کانٹوں نے جو زخم لگائے وہ مانا بھر جائیں گے

ان زخموں کو کیسے بھرو گے جن کو لگائیں پھول میاں

سُکھ ڈھونڈو گے دُکھ پاؤ گے پرِیت کے بدلے جلتے آنسو

رِیت یہی اس جگ کی پیارے، اس جگ کا معمول میاں

Saturday, 27 March 2021

آج پھر وقت کوئی اپنی نشانی مانگے

 آج پھر وقت کوئی اپنی نشانی مانگے

بات بھولی ہوئی زخموں کی زبانی مانگے

جذبۂ شوق کہ وارفتۂ حسن ابہام

اور وہ شوخ کہ لفظوں کے معانی مانگے

عرق آلود ہیں یہ سوچ کے عارض گُل کے

صبحِ خورشید نہ شبنم کی جوانی مانگے