اتنی مدت بعد ملے ہو کچھ تو دل کا حال کہو
کیسے بیتے ہم بن پیارے اتنے ماہ و سال کہو
رُوپ کا دھوکا سمجھو نظر کا یا پھر مایا جال کہو
پریت کو دل کا روگ سمجھ لو یا جی کا جنجال کہو
آنکھوں دیکھی کیا بتلائیں حال عجب کچھ دیکھا ہے
دُکھ کی کھیتی کتنی ہری اور سُکھ کا جیسے کال کہو