Friday, 8 October 2021

عقب سے وار تھا آخر میں آہ کیا کرتا

 عقب سے وار تھا آخر میں آہ کیا کرتا

کسی بھی آڑ میں لے کر پناہ کیا کرتا

غریب شہر تھا آنکھوں میں تھی انا زندہ

سزائے موت نہ دیتا تو شاہ کیا کرتا

مِرے خلوص کو جو سکۂ غرض سمجھا

میں ایسے شخص سے آخر نِباہ کیا کرتا

یوں اس کے عفو کا دامن بھی داغدار نہ ہو

یہی خیال تھا قصدِ گناہ کیا کرتا

یہ تار تار شب و روز ریزہ ریزہ حیات

میں اپنے حال پر آخر نگاہ کیا کرتا

جو زندگی سے نہ پائے نجات کی راہیں

شکیل اس کو زمانہ تباہ کیا کرتا


شکیل دسنوی

No comments:

Post a Comment