Friday, 8 October 2021

مسئلہ حسن تخیل کا ہے نہ الہام کا ہے

 مسئلہ حسنِ تخیل کا ہے نہ الہام کا ہے

یہ فسانہ ذرا مشکل دلِ ناکام کا ہے

رات دن پہروں پہر اس کی ادا کے چرچے

یہ تماشہ بھی مِرے واسطے کس کام کا ہے

مسکرانے لگے ہر سمت محبت کے چراغ

تیرے چہرے کا تصور بھی بڑے کام کا ہے

سونی سونی تھیں جو آنکھیں وہ دوبارہ ہنس دیں

نظر آیا ہے جو منظر وہ اسی شام کا ہے

اس تعلق کا کوئی رنگ نہ ڈھلنے پایا

تذکرہ شعروں میں اب بھی اسی گلفام کا ہے

لے اڑیں زرد ہوائیں مِرے گھر سے خوشبو

بام و در کیا ہیں دریچہ مِرے کس کام کا ہے

فصل ہو جائے تو بڑھتی ہے خوشی سے دوری

آپ کا قرب یہ سچ ہے بڑے آرام کا ہے


سلمیٰ شاہین

No comments:

Post a Comment