Showing posts with label رابعہ ملک. Show all posts
Showing posts with label رابعہ ملک. Show all posts

Wednesday, 23 November 2022

محبت سے پہلے محبت کہاں تھی

 کسی میں مروت، مروت کہاں تھی

محبت سے پہلے محبت کہاں تھی

یہ تم پوچھو خود اپنی شرم و حیا سے

کہ قبل اس سے خوئے شرافت کہاں تھی

یہ زلفیں ہیں میری، شبستاں نہیں ہے

تجھے ان میں سونے کی عادت کہاں تھی

Tuesday, 8 February 2022

میں عورت ہوں مِری قسمت نرالی ہے

 عورت


میں عورت ہوں

مری قسمت نرالی ہے

کہ اپنی گود میں

یہ غم کی دیوی میں نے پالی ہے

کئی رشتے بنائے ہیں

Sunday, 5 September 2021

کیا یہ خود سے اب انتقام نہیں

 کیا یہ خود سے اب انتقام نہیں

تجھ سے کوئی دعا سلام نہیں

گل و گلزار تیرے شیدا ہیں

کہیں خوشبو تو تیرا نام نہیں

مسکراہٹ وہ لین دین ہے جو

کسی مذہب میں بھی حرام نہیں

Saturday, 29 May 2021

اسے لگا کہ محبت ہے وحشیانہ کھیل

 اسے لگا کہ محبت ہے وحشیانہ کھیل

تو پیار پیار میں کھیلا وہ شاطرانہ کھیل

بجا رہا تھا شبِ وصل ہجر کی دُھن وہ

اسی پہ موڑ دیا اس کا عاقلانہ کھیل

زمانہ بات سمجھتا نہیں کبھی میری

وہ میری بات کو سمجھا ہے ماہرانہ کھیل

Monday, 26 April 2021

جانتی ہوں کہ تجارت نہیں ہونے والی

 جانتی ہوں کہ تجارت نہیں ہونے والی

اس لیے دل پہ حکومت نہیں ہونے والی

تیری تصویر کئی بار اُتر سکتی ہے

اب کئی بار ندامت نہیں ہونے والی

تیرے کوچے میں چلے آئے ہیں صرصر کی طرح

اب تِرے سامنے اُلفت نہیں ہونے والی

Monday, 19 April 2021

تمہیں ہماری جو یاد آئے تو لوٹ آنا

 تمہیں ہماری جو یاد آئے تو لوٹ آنا

یہ ہجر تم کو جو کاٹ کھائے تو لوٹ آنا

مسافرت کا جنون طاری ہے سر پہ لیکن

کہ رہ میں مشکل جو پیش آئے تو لوٹ آنا

تمہاری یادوں کے دِیپ ہم نے جلا رکھے ہیں

اگر کوئی شمع ٹمٹمائے تو لوٹ آنا

Sunday, 18 April 2021

جس کو بھا جائیں گی میری نیلی آنکھیں

 جس کو بھا جائیں گی میری نیلی آنکھیں

شعر کہا جائیں گی میری نیلی آنکھیں

اس کی محفل کا ہو گا اک دن ایسا رنگ

رنج اٹھائیں گی میری نیلی آنکھیں

بچ کے رہنا بے تاب سمندر سے تم

ورنہ کھا جائیں گی میری نیلی آنکھیں

Saturday, 17 April 2021

کہنے کو کہہ دیا تھا جو قصہ شباب کا

 کہنے کو کہہ دیا تھا جو قصہ شباب کا

کچھ ذکر تو ضرور تھا آنا جناب کا

اب اور کیا کہوں کہ مجھے کیا نہیں ملا

اک درد مل گیا دلِ خانہ خراب کا

سود و زیاں کی فکر مجھے اب نہیں رہی

اب آ چکا ہے وقت بھی سارے حساب کا

Thursday, 28 January 2021

حائل تھے کوہسار محبت اداس تھی

 حائل تھے کوہسار، محبت اداس تھی

ہنستا تھا ہجرِ یار، محبت اداس تھی

اس بار ہارنے کو وہ آیا تو تھا مگر

خود میں نے مانی ہار، محبت اداس تھی

پھر آشیاں کے سامنے لاشہ پڑا ملا

یہ آخری تھا وار، محبت اداس تھی