کسی میں مروت، مروت کہاں تھی
محبت سے پہلے محبت کہاں تھی
یہ تم پوچھو خود اپنی شرم و حیا سے
کہ قبل اس سے خوئے شرافت کہاں تھی
یہ زلفیں ہیں میری، شبستاں نہیں ہے
تجھے ان میں سونے کی عادت کہاں تھی
کسی میں مروت، مروت کہاں تھی
محبت سے پہلے محبت کہاں تھی
یہ تم پوچھو خود اپنی شرم و حیا سے
کہ قبل اس سے خوئے شرافت کہاں تھی
یہ زلفیں ہیں میری، شبستاں نہیں ہے
تجھے ان میں سونے کی عادت کہاں تھی
عورت
میں عورت ہوں
مری قسمت نرالی ہے
کہ اپنی گود میں
یہ غم کی دیوی میں نے پالی ہے
کئی رشتے بنائے ہیں
کیا یہ خود سے اب انتقام نہیں
تجھ سے کوئی دعا سلام نہیں
گل و گلزار تیرے شیدا ہیں
کہیں خوشبو تو تیرا نام نہیں
مسکراہٹ وہ لین دین ہے جو
کسی مذہب میں بھی حرام نہیں
اسے لگا کہ محبت ہے وحشیانہ کھیل
تو پیار پیار میں کھیلا وہ شاطرانہ کھیل
بجا رہا تھا شبِ وصل ہجر کی دُھن وہ
اسی پہ موڑ دیا اس کا عاقلانہ کھیل
زمانہ بات سمجھتا نہیں کبھی میری
وہ میری بات کو سمجھا ہے ماہرانہ کھیل
جانتی ہوں کہ تجارت نہیں ہونے والی
اس لیے دل پہ حکومت نہیں ہونے والی
تیری تصویر کئی بار اُتر سکتی ہے
اب کئی بار ندامت نہیں ہونے والی
تیرے کوچے میں چلے آئے ہیں صرصر کی طرح
اب تِرے سامنے اُلفت نہیں ہونے والی
تمہیں ہماری جو یاد آئے تو لوٹ آنا
یہ ہجر تم کو جو کاٹ کھائے تو لوٹ آنا
مسافرت کا جنون طاری ہے سر پہ لیکن
کہ رہ میں مشکل جو پیش آئے تو لوٹ آنا
تمہاری یادوں کے دِیپ ہم نے جلا رکھے ہیں
اگر کوئی شمع ٹمٹمائے تو لوٹ آنا
جس کو بھا جائیں گی میری نیلی آنکھیں
شعر کہا جائیں گی میری نیلی آنکھیں
اس کی محفل کا ہو گا اک دن ایسا رنگ
رنج اٹھائیں گی میری نیلی آنکھیں
بچ کے رہنا بے تاب سمندر سے تم
ورنہ کھا جائیں گی میری نیلی آنکھیں
کہنے کو کہہ دیا تھا جو قصہ شباب کا
کچھ ذکر تو ضرور تھا آنا جناب کا
اب اور کیا کہوں کہ مجھے کیا نہیں ملا
اک درد مل گیا دلِ خانہ خراب کا
سود و زیاں کی فکر مجھے اب نہیں رہی
اب آ چکا ہے وقت بھی سارے حساب کا
حائل تھے کوہسار، محبت اداس تھی
ہنستا تھا ہجرِ یار، محبت اداس تھی
اس بار ہارنے کو وہ آیا تو تھا مگر
خود میں نے مانی ہار، محبت اداس تھی
پھر آشیاں کے سامنے لاشہ پڑا ملا
یہ آخری تھا وار، محبت اداس تھی