کبھی الفاظ خنجر تو، کبھی مرہم بھی ہوتے ہیں
خوشی لفظوں سے ملتی ہے کبھی یہ غم بھی ہوتے ہیں
جو پی کر زہر لہجوں کا ہمیشہ مسکراتے ہیں
ذرا گر غور سے دیکھو تو یہ پُرنم بھی ہوتے ہیں
ہوا کے دوش پر رکھے دیوں کی زندگی کیا ہے
کبھی گر تیز جلتے ہیں، کبھی مدھم بھی ہوتے ہیں