Showing posts with label ناز ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label ناز ہاشمی. Show all posts

Saturday, 12 November 2022

کبھی الفاظ خنجر تو کبھی مرہم بھی ہوتے ہیں

 کبھی الفاظ خنجر تو، کبھی مرہم بھی ہوتے ہیں

خوشی لفظوں سے ملتی ہے کبھی یہ غم بھی ہوتے ہیں

جو پی کر زہر لہجوں کا ہمیشہ مسکراتے ہیں

ذرا گر غور سے دیکھو تو یہ پُرنم بھی ہوتے ہیں

ہوا کے دوش پر رکھے دیوں کی زندگی کیا ہے

کبھی گر تیز جلتے ہیں، کبھی مدھم بھی ہوتے ہیں

Sunday, 2 October 2022

میں ہوں اک مشرقی لڑکی مجھے خاموش رہنا ہے

 میں ہوں اک مشرقی لڑکی


رواجوں کے الاؤ میں

سُلگنا میری قسمت ہے

مجھے یہ درس مِلتا ہے

یہ سب میرا مقدر ہے

وراثت معاف کرنی ہے

وفا کی لاج رکھنی ہے

Monday, 25 October 2021

کبھی اقرار کی صورت کبھی انکار کی صورت

 کبھی اقرار کی صورت، کبھی انکار کی صورت

پیامِ دل سناتی ہے نظر اظہار کی صورت

کبھی خوشیوں کی ہیں صبحیں، کبھی غم کی سیہ راتیں

زمانہ روپ بدلے ہے، کسی فنکار کی صورت

اداسی میں چلی آتی ہیں جو گُل رنگ سی یادیں

مِری تنہائی مہکے موتیوں کے ہار کی صورت

Sunday, 24 October 2021

خواب خدشے ستم بکھرے بکھرے ہیں ہم

 خواب، خدشے، ستم، بکھرے بکھرے ہیں ہم

کیسے کیسے ہوئے چاہتوں کے کرم

اب تو اپنا بھی ملتا نہیں ہے سراغ

ہجر کی تیرگی میں ہوئے گُم صنم

ہر قدم پر ہیں لاشے تمناؤں کے

کیسے رکھیں یہاں زندگی کا بھرم

Wednesday, 20 October 2021

اک خطا اس کے روبرو کی تھی

 اک خطا اس کے روبرو کی تھی

گھر بنانے کی آرزو کی تھی

تنکا تنکا ہی جوڑنا چاہا

آشیانے کی جستجو کی تھی

ہر قدم پر جلا کے دل کا دِیا

روشنی میں نے چار سُو کی تھی

بلائیں ہماری صدائیں ہماری کوئی ہم سے لے لے دعائیں ہماری

 بلائیں ہماری، صدائیں ہماری

کوئی ہم سے لے لے دعائیں ہماری

نہ جانے سمائی ہے کیا اس کے من میں

ہمیں دے رہا ہے سزائیں ہماری

بہت سن چکے ہم زمانے کے قصے

کہانی ہمیں اب سنائیں ہماری

Tuesday, 19 October 2021

زیست میں حادثہ ضروری ہے

 زیست میں حادثہ ضروری ہے

عشق سا سانحہ ضروری ہے

پیار میں ہار جیت بے معنی

دل سے اک رابطہ ضروری ہے

منزلوں کی تلاش میں اکثر

اک نیا راستہ ضروری ہے

Sunday, 10 October 2021

صرف حرص و ہوا کے ہوتے ہیں

 صرف حرص و ہوا کے ہوتے ہیں

بندے کم ہی خدا کے ہوتے ہیں

چند لمحوں کی زندگانی میں

جھگڑے لاکھوں انا کے ہوتے ہیں

کاش، انسان کو سمجھ آئے

اصل حیلے فنا کے ہوتے ہیں