زیست میں حادثہ ضروری ہے
عشق سا سانحہ ضروری ہے
پیار میں ہار جیت بے معنی
دل سے اک رابطہ ضروری ہے
منزلوں کی تلاش میں اکثر
اک نیا راستہ ضروری ہے
حسن دو آتشہ بنانے کو
یار کی اک نگہ ضروری ہے
گر محبت ہو دائمی لاحق
قرب میں فاصلہ ضروری ہے
روٹی، کپڑا، مکان رہنے دو
عشق بے انتہا ضروری ہے
اپنے اندر کے چند زخموں کو
رات دن دیکھنا ضروری ہے
جس پہ سر رکھ کے پھوٹ کر روئیں
ایک کاندھا بڑا ضروری ہے
لوگ زخموں سے لطف لیتے ہیں
ناز چپ سادھنا ضروری ہے
ناز ہاشمی
ایس ناز
No comments:
Post a Comment