آرزو تم ہو مدعا تم ہو
کیا زباں سے کہوں کہ کیا تم ہو
کیا ضرورت ہے آئینے کی مجھے
میری ہستی کا آئینہ تم ہو
دل ابھی تک نہیں سمجھ پایا
اجنبی ہو کہ آشنا تم ہو
آرزو تم ہو مدعا تم ہو
کیا زباں سے کہوں کہ کیا تم ہو
کیا ضرورت ہے آئینے کی مجھے
میری ہستی کا آئینہ تم ہو
دل ابھی تک نہیں سمجھ پایا
اجنبی ہو کہ آشنا تم ہو
زر کی طاقت سے کیا نہیں ہوتا
صرف بندہ خدا نہیں ہوتا
لاکھ دیواریں آپ اٹھا دیجے
خون خوں سے جدا نہیں ہوتا
سر بہ سجدہ قدم قدم، لیکن
حق یہ ہے حق ادا نہیں ہوتا
محبتوں کے چمن کی بہار لے کے چلیں
چلیں تو قافلۂ مُشکبار لے کے چلیں
پیام امن خلوص اور پیار لے کے چلیں
وفا کا جذبۂ بے اختیار لے کے چلیں
قدم سے پہلے کریں حوصلے کا اندازہ
بلند عزم، قوی اعتبار لے کے چلیں
زندگی خوگر صدمات کہاں تھی پہلے
اتنی مجبورئ حالات کہاں تھی پہلے
میری مشتاق نگاہی کا کرشمہ ہے یہ
آپ کے حسن میں یہ بات کہاں تھی پہلے
یہ تو نیرنگ طرازی مِرے احساس کی ہے
فصل گل بادل و برسات کہاں تھی پہلے
سوز غم سے جل رہا ہوں دیکھتا کوئی نہیں
کیا بُتوں کا شہر ہے، غم آشنا کوئی نہیں
کس کے آگے سر جُھکاؤں دیوتا کوئی نہیں
پتھروں کے شہر میں میرا خدا کوئی نہیں
ظلم و استبداد کا اک سلسلہ ہے اس کے ساتھ
یہ سمجھتا ہے وہ شاید کہ؛ خدا کوئی نہیں