Showing posts with label ابرار نغمی. Show all posts
Showing posts with label ابرار نغمی. Show all posts

Friday, 14 October 2022

آرزو تم ہو مدعا تم ہو

 آرزو تم ہو مدعا تم ہو

کیا زباں سے کہوں کہ کیا تم ہو

کیا ضرورت ہے آئینے کی مجھے

میری ہستی کا آئینہ تم ہو

دل ابھی تک نہیں سمجھ پایا

اجنبی ہو کہ آشنا تم ہو

Wednesday, 5 October 2022

زر کی طاقت سے کیا نہیں ہوتا

 زر کی طاقت سے کیا نہیں ہوتا

صرف بندہ خدا نہیں ہوتا

لاکھ دیواریں آپ اٹھا دیجے

خون خوں سے جدا نہیں ہوتا

سر بہ سجدہ قدم قدم، لیکن

حق یہ ہے حق ادا نہیں ہوتا

Monday, 3 October 2022

محبتوں کے چمن کی بہار لے کے چلیں

 محبتوں کے چمن کی بہار لے کے چلیں

چلیں تو قافلۂ مُشکبار لے کے چلیں

پیام امن خلوص اور پیار لے کے چلیں

وفا کا جذبۂ بے اختیار لے کے چلیں

قدم سے پہلے کریں حوصلے کا اندازہ

بلند عزم، قوی اعتبار لے کے چلیں

Sunday, 24 April 2022

زندگی خوگر صدمات کہاں تھی پہلے

 زندگی خوگر صدمات کہاں تھی پہلے

اتنی مجبورئ حالات کہاں تھی پہلے

میری مشتاق نگاہی کا کرشمہ ہے یہ

آپ کے حسن میں یہ بات کہاں تھی پہلے

یہ تو نیرنگ طرازی مِرے احساس کی ہے

فصل گل بادل و برسات کہاں تھی پہلے

Saturday, 10 April 2021

سوز غم سے جل رہا ہوں دیکھتا کوئی نہیں

 سوز غم سے جل رہا ہوں دیکھتا کوئی نہیں

کیا بُتوں کا شہر ہے، غم آشنا کوئی نہیں

کس کے آگے سر جُھکاؤں دیوتا کوئی نہیں

پتھروں کے شہر میں میرا خدا کوئی نہیں

ظلم و استبداد کا اک سلسلہ ہے اس کے ساتھ

یہ سمجھتا ہے وہ شاید کہ؛ خدا کوئی نہیں