Showing posts with label رئیس صدیقی. Show all posts
Showing posts with label رئیس صدیقی. Show all posts

Saturday, 21 August 2021

پل بھر میں برسوں کا رشتہ توڑ دیا

 پل بھر میں برسوں کا رشتہ توڑ دیا 

پتھر دل نے آخر شیشہ توڑ دیا 

دیکھ کے اس کو پھِر دانستہ دیکھ لیا

اک لغزش نے میرا روزہ توڑ دیا

شاید اس کی فطری غیرت جاگ اٹھے

ہم نے  اک سائل کا کاسہ توڑ دیا

Thursday, 19 August 2021

سیاہ رات میں جگنو کو ساتھ رکھتے ہیں

 سیاہ رات میں، جگنو کو ساتھ رکھتے ہیں

سفر میں ہم تِری خوشبو کو ساتھ رکھتے ہیں 

تمام عمر، ہے دُکھوں سے فرار نا ممکن

جو قہقہے ہیں، وہ آنسو کو ساتھ رکھتے ہیں

بدل دیا ہے سیاست نے ساری قدروں کو 

شریف لوگ بھی، سادھو کو ساتھ رکھتے ہیں

Wednesday, 18 August 2021

دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں

 دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں

کیوں تجھے یاد کیا کرتے ہیں

ان اندھیروں کو حقارت سے نہ دیکھ

یہ چراغوں کا بھلا کرتے ہیں

ساری باتیں نہیں مانی جاتیں

بچے تو ضد ہی کیا کرتے ہیں

Tuesday, 17 August 2021

دنیا میں جو سمجھتے تھے بار گراں مجھے

 دنیا میں جو سمجھتے تھے بار گراں مجھے

وہ ہی سنا رہے ہیں مِری داستاں مجھے

مڑ مڑ کے دیکھتا تھا تِرے نقش پا کو میں

تنہا سمجھ کے چل دیا جب کارواں مجھے

دو گام میرے ساتھ چلے راہِ عشق میں

ملتا نہیں ہے ایسا کوئی راز داں مجھے

جگر سے جان سے پیارے کہاں ہے کچھ تو بتا

 جگر سے جان سے پیارے کہاں ہے کچھ تو بتا

ہر ایک دل کے سہارے کہاں ہے کچھ تو بتا

تِری تلاش میں کھوئی ہوئی ہے چشم فلک

زمیں کے راج دُلارے کہاں ہے کچھ تو بتا

مسرتوں سے تھا لبریز دل کا پیمانہ

مِری خوشی کے سہارے کہاں ہے کچھ تو بتا