پل بھر میں برسوں کا رشتہ توڑ دیا
پتھر دل نے آخر شیشہ توڑ دیا
دیکھ کے اس کو پھِر دانستہ دیکھ لیا
اک لغزش نے میرا روزہ توڑ دیا
شاید اس کی فطری غیرت جاگ اٹھے
ہم نے اک سائل کا کاسہ توڑ دیا
پل بھر میں برسوں کا رشتہ توڑ دیا
پتھر دل نے آخر شیشہ توڑ دیا
دیکھ کے اس کو پھِر دانستہ دیکھ لیا
اک لغزش نے میرا روزہ توڑ دیا
شاید اس کی فطری غیرت جاگ اٹھے
ہم نے اک سائل کا کاسہ توڑ دیا
سیاہ رات میں، جگنو کو ساتھ رکھتے ہیں
سفر میں ہم تِری خوشبو کو ساتھ رکھتے ہیں
تمام عمر، ہے دُکھوں سے فرار نا ممکن
جو قہقہے ہیں، وہ آنسو کو ساتھ رکھتے ہیں
بدل دیا ہے سیاست نے ساری قدروں کو
شریف لوگ بھی، سادھو کو ساتھ رکھتے ہیں
دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں
کیوں تجھے یاد کیا کرتے ہیں
ان اندھیروں کو حقارت سے نہ دیکھ
یہ چراغوں کا بھلا کرتے ہیں
ساری باتیں نہیں مانی جاتیں
بچے تو ضد ہی کیا کرتے ہیں
دنیا میں جو سمجھتے تھے بار گراں مجھے
وہ ہی سنا رہے ہیں مِری داستاں مجھے
مڑ مڑ کے دیکھتا تھا تِرے نقش پا کو میں
تنہا سمجھ کے چل دیا جب کارواں مجھے
دو گام میرے ساتھ چلے راہِ عشق میں
ملتا نہیں ہے ایسا کوئی راز داں مجھے
جگر سے جان سے پیارے کہاں ہے کچھ تو بتا
ہر ایک دل کے سہارے کہاں ہے کچھ تو بتا
تِری تلاش میں کھوئی ہوئی ہے چشم فلک
زمیں کے راج دُلارے کہاں ہے کچھ تو بتا
مسرتوں سے تھا لبریز دل کا پیمانہ
مِری خوشی کے سہارے کہاں ہے کچھ تو بتا