شفٹنگ/Shifting
شفٹنگ کے دوران نہ جانے
کیا کیا چیزیں ٹوٹ گئی تھیں
کچھ آئینے کچھ برتن اور کچھ گملے بھی ٹوٹے تھے
لیکن ٹھیک سے یاد نہیں ہے
شفٹنگ کے دوران نہ جانے
کیا کیا چیزیں ٹوٹ گئی تھیں
شفٹنگ/Shifting
شفٹنگ کے دوران نہ جانے
کیا کیا چیزیں ٹوٹ گئی تھیں
کچھ آئینے کچھ برتن اور کچھ گملے بھی ٹوٹے تھے
لیکن ٹھیک سے یاد نہیں ہے
شفٹنگ کے دوران نہ جانے
کیا کیا چیزیں ٹوٹ گئی تھیں
جناب قیس سے پوچھو کے دلبری کیا ہے
تم اس سے پوچھ رہے ہو بہادری کیا ہے
دشمنی کیسے بتائے گی دوستی کیا ہے
اندھیرا کب یہ بتایا ہے روشنی کیا ہے
یہ شعر فہمی ہے کیا چیز شاعری کیا ہے
سخنوروں ںسے بھی پوچھو سخنوری کیا ہے
بسمل پڑا تھا مرگ پہ طالب دعا کا تھا
وحشت زدہ تھا پھر بھی حامی وفا کا تھا
بلبل اڑا کے لایا جو فصلِ بہار سے
تیری ہی یاد کا اک جھونکا ہوا کا تھا
غنچے کھلے کھلے تھی بوئے نگار ہر دم
سارا کرم چمن پر یہ بادِ صبا کا تھا
سب کہ رہے ہیں دوش تو سارا ہوا کا تھا
اس بار مستحق دیا خود سزا کا تھا
اب چل بسا تو روتا ہے تو نامراد کیوں
تُو نے کہا تھا شخص وہ راہِ فنا کا تھا
جس نے ہے بہتے پانی پہ راستہ بنا دیا
موسٰی تھا اس کا نام وہ بندہ خدا کا تھا
سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھے
کچھ ایسے سکے ہمارے کاسے میں آ گئے تھے
ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے
خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے
تمہارے آنگن کی تتلیاں تھیں ہمارے گھر میں
ہمارے جگنو تمہارے کمرے میں آ گئے تھے
کیوں پریشان کُل خدائی ہے
کیسی آفت جہاں میں آئی ہے
وہ کہاں جائیں جن کا گھر ہی نہیں
گھر میں رہنا اگر بھلائی ہے
حسبِ دستور فاصلہ رکھیں
یہ وفا ہے نہ بے وفائی ہے
جہاں پہ چھوڑی تھی بات دل کی، وہیں سے جاری ضرور کرتے
اگر وہ سنتا ہماری باتیں تو بات ساری ضرور کرتے
خدا سے فرصت نہیں ملے گی خدا کے بندوں کو آج ورنہ
خدا کے بندے خدا کی خاطر مدد ہماری ضرور کرتے
عذابِ دوزخ کا خوف بھی ہے، حصولِ جنت کا شوق بھی ہے
جو یہ نہ ہوتے تو دل سے پوجا یہ سب پجاری ضرور کرتے
عشق تجھ کو کبھی ہُوا ہی نہیں
کیا میری جان یہ تباہی نہیں؟
جس کو مانگا تھا عمر بھر کے لیے
وہ مجھے عمر بھر مِلا ہی نہیں
لاپتہ ہوں میں جس کی چاہت میں
مجھ کو اُس کا پتہ، پتہ ہی نہیں
مل چکی ہے دلیل، ہوتے ہیں
کچھ کبوتر بھی چیل ہوتے ہیں
عشق میں انتظار کے لمحے
مختصر بھی طویل ہوتے ہیں
دیکھ لینا کبھی جو وقت ملے
ماں کے ہاتھوں پہ نیل ہوتے ہیں
نہ جانے کیوں وہی جینا حرام کرتے ہیں
کہ جن کا دل سے بہت احترام کرتے ہیں
تمہارا ذکر کسی بات میں اگر آئے
ہم ہاتھ جوڑ کے قصہ تمام کرتے ہیں
ہمیں ہے اس لیے اردو زبان سے الفت
ہم اس زبان میں رب سے کلام کرتے ہیں