Showing posts with label رضا حیدری. Show all posts
Showing posts with label رضا حیدری. Show all posts

Sunday, 21 July 2024

شفٹنگ کے دوران نہ جانے

 شفٹنگ/Shifting 


شفٹنگ کے دوران نہ جانے 

کیا کیا چیزیں ٹوٹ گئی تھیں 

کچھ آئینے کچھ برتن اور کچھ گملے بھی ٹوٹے تھے

لیکن ٹھیک سے یاد نہیں ہے

شفٹنگ کے دوران نہ جانے 

کیا کیا چیزیں ٹوٹ گئی تھیں

Saturday, 3 December 2022

جناب قیس سے پوچھو کے دلبری کیا ہے

جناب قیس سے پوچھو کے دلبری کیا ہے

تم اس سے پوچھ رہے ہو بہادری کیا ہے

دشمنی کیسے بتائے گی دوستی کیا ہے

اندھیرا کب یہ بتایا ہے روشنی کیا ہے

یہ شعر فہمی ہے کیا چیز شاعری کیا ہے

سخنوروں ںسے بھی پوچھو سخنوری کیا ہے

Wednesday, 27 July 2022

بسمل پڑا تھا مرگ پہ طالب دعا کا تھا

 بسمل پڑا تھا مرگ پہ طالب دعا کا تھا

وحشت زدہ تھا پھر بھی حامی وفا کا تھا

بلبل اڑا کے لایا جو فصلِ بہار سے

تیری ہی یاد کا اک جھونکا ہوا کا تھا

غنچے کھلے کھلے تھی بوئے نگار ہر دم

سارا کرم چمن پر یہ بادِ صبا کا تھا

Sunday, 17 July 2022

سب کہہ رہے ہیں دوش تو سارا ہوا کا تھا

 سب کہ رہے ہیں دوش تو سارا ہوا کا تھا

اس بار مستحق دیا خود سزا کا تھا

اب چل بسا تو روتا ہے تو نامراد کیوں

تُو نے کہا تھا شخص وہ راہِ فنا کا تھا

جس نے ہے بہتے پانی پہ راستہ بنا دیا

موسٰی تھا اس کا نام وہ بندہ خدا کا تھا

Friday, 15 October 2021

سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھے

 سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھے

کچھ ایسے سکے ہمارے کاسے میں آ گئے تھے

ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے

خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے

تمہارے آنگن کی تتلیاں تھیں ہمارے گھر میں

ہمارے جگنو تمہارے کمرے میں آ گئے تھے

Thursday, 14 October 2021

کیوں پریشان کل خدائی ہے

 کیوں پریشان کُل خدائی ہے

کیسی آفت جہاں میں آئی ہے

وہ کہاں جائیں جن کا گھر ہی نہیں

گھر میں رہنا اگر بھلائی ہے

حسبِ دستور فاصلہ رکھیں

یہ وفا ہے نہ بے وفائی ہے

Wednesday, 13 October 2021

جہاں پہ چھوڑی تھی بات دل کی وہیں سے جاری ضرور کرتے

 جہاں پہ چھوڑی تھی بات دل کی، وہیں سے جاری ضرور کرتے

اگر وہ سنتا ہماری باتیں تو بات ساری ضرور کرتے

خدا سے فرصت نہیں ملے گی خدا کے بندوں کو آج ورنہ

خدا کے بندے خدا کی خاطر مدد ہماری ضرور کرتے

عذابِ دوزخ کا خوف بھی ہے، حصولِ جنت کا شوق بھی ہے

جو یہ نہ ہوتے تو دل سے پوجا یہ سب پجاری ضرور کرتے

Wednesday, 29 September 2021

عشق تجھ کو کبھی ہوا ہی نہیں

 عشق تجھ کو کبھی ہُوا ہی نہیں

کیا میری جان یہ تباہی نہیں؟

جس کو مانگا تھا عمر بھر کے لیے

وہ مجھے عمر بھر مِلا ہی نہیں

لاپتہ ہوں میں جس کی چاہت میں

مجھ کو اُس کا پتہ، پتہ ہی نہیں

Sunday, 28 March 2021

مل چکی ہے دلیل ہوتے ہیں

مل چکی ہے دلیل، ہوتے ہیں

کچھ کبوتر بھی چیل ہوتے ہیں

عشق میں انتظار کے لمحے

مختصر بھی طویل ہوتے ہیں

دیکھ لینا کبھی جو وقت ملے

ماں کے ہاتھوں پہ نیل ہوتے ہیں

Wednesday, 25 November 2020

نہ جانے کیوں وہی جینا حرام کرتے ہیں

 نہ جانے کیوں وہی جینا حرام کرتے ہیں

کہ جن کا دل سے بہت احترام کرتے ہیں

تمہارا ذکر کسی بات میں اگر آئے

ہم ہاتھ جوڑ کے قصہ تمام کرتے ہیں

ہمیں ہے اس لیے اردو زبان سے الفت

ہم اس زبان میں رب سے کلام کرتے ہیں