کٹ گئی عمر تِرے درد کو ریزہ کرتے
کتنے دیوان ہوئے غم کا خلاصہ کرتے
جانے اس شخص کے کتنوں نے بھرم توڑے ہیں
اب جو ڈرتا ہے خدا پر بھی بھروسہ کرتے
یعنی ہم لوگ تِرے نقش قدم پر چلتے
کہ دُکاں کھولتے اور جھوٹ کو بیچا کرتے
کٹ گئی عمر تِرے درد کو ریزہ کرتے
کتنے دیوان ہوئے غم کا خلاصہ کرتے
جانے اس شخص کے کتنوں نے بھرم توڑے ہیں
اب جو ڈرتا ہے خدا پر بھی بھروسہ کرتے
یعنی ہم لوگ تِرے نقش قدم پر چلتے
کہ دُکاں کھولتے اور جھوٹ کو بیچا کرتے
ایسے مجمع ہے رقیبوں کا مِرے یار کے گرد
جیسے مزدور اکٹھے ہوں کسی کار کے گرد
ان میں بس ایک ہی منت تھی بنا حرص و ہوس
ورنہ دھاگے تو بہت لٹکے تھے دربار کے گرد
ہم کہ دشمن کو ڈرانے کا ہنر جانتے ہیں
خون اپنا ہی لگا لیتے ہیں تلوار کے گرد
آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ
سوکھا رومال مِرے ضبط کی زنبیل سمجھ
تم نے اس ہجر کے زنداں میں قدم رکھا ہے
چاروں اطراف کے دروازوں کو اب سِیل سمجھ
ایک مدت سے جڑا ہوں کسی تصویر کے ساتھ
مجھ کو دیوار میں گاڑا ہوا اک کِیل سمجھ
دکانِ حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا
گھٹن سے مر گیا جو کھڑکیاں بناتا تھا
تباہی یہ اسی پیپل کی بد دعا سے ہے
کہ جس کے سائے میں تُو آریاں بناتا تھا
تمام خواہشیں تالے لگا کے رکھتا تھا
وہ بے مکاں تھا مگر چابیاں بناتا تھا
گداگری کا حوالہ نہیں خرید سکا
وہ پیٹ کاٹ کے پیالہ نہیں خرید سکا
کھُلے کواڑ پہ لکھا ہے؛ بند ہے چوکھٹ
وہ اک غریب کہ تالا نہیں خرید سکا
لحد سے پھُول اُٹھائے تو ایک ہار بُنا
خوشی کے وقت وہ مالا نہیں خرید سکا
وہ میرے لمس مری دسترس سےباہر تھا
بڑا قریب تھا لیکن ہوس سے باہر تھا
وہ منجمد تھا کسی آنکھ کے اشارے پر
وہ بس کی سیٹ پہ بیٹھا بھی بس سے باہر تھا
سکڑ گیا کہ تسلسل سے گریہ زاری کی
میں پھل تھا ایسا کہ اپنے ہی رس سے باہر تھا
خیال و خواب کے دفتر، جگہ نہیں بنتی
کسی کی یاد ہے ازبر جگہ نہیں بنتی
نہ تیرے پاس سفارش ہے اور نہ پیسہ ہے
سو حکم یہ ہے کہ؛ جا گھر، جگہ نہیں بنتی
اسی لیے میں تِری بزم میں نہیں آتا
تِری جگہ کے برابر جگہ نہیں بنتی
جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی
مرتے ہوئے گھٹن سے، ہوا کی خبر ملی
میں جس دوا کو وقتِ مقرر پہ کھا گیا
مدت گزر چکی تھی دوا کی، خبر ملی
اس کی یہ بد عا تھی کہ بد قسمتی مری
وقت جزا بھی مجھ کو سزا کی خبر ملی
کسے تمہاری نظر کے دیے پسند نہیں
وہ میری آنکھ سے دیکھے جسے پسند نہیں
یہ میری زندگی کا مسئلہ ہے کچھ تو سمجھ
ہزار بار کہا، وہ مجھے پسند نہیں
تمہارے ہونٹ جہاں مس ہوئے گلاس کے ساتھ
وہیں سے دوسرا کوئی پیے، پسند نہیں
بڑے اصول بڑے ضابطے سے ملتا ہے
وہ جب بھی ملتا ہے اک فاصلے سے ملتا ہے
ترے خیال سے غزلیں کشید کرتا ہوں
ترا جمال مرے قافیے سے ملتا ہے
مرید بن کے عقیدت سے پیش آتا ہوں
مجھے جو شخص ترے واسطے سے ملتا ہے
عملاً تو مانتے نہیں قائد کی بات کو
کیوں رٹ رہے ہو بیٹھ کے چودہ نکات کو
جیسے ہمارے جسم پہ لکھی ہو بد دعا
پڑھتا نہیں ہے کوئی بھی ہم کاغذات کو
وہ نصف حصہ دار ہے میری دعاؤں کا
جو بد دعا بھی دیتا ہے شبِ برات کو
ساتویں دن ہی اذیت سے معافی رکھے
میری ہفتے میں کسی روز تو چھٹی رکھے
انگلیوں پر جو گنے ہجر میں کاٹے ہوئے پل
سبھی کے مشورے چھوڑے وہ ریاضی رکھے
اُس سے اِس واسطے کہتا ہوں کہ مر جاؤں گا
کبھی شاید مرے ہونٹوں پہ وہ انگلی رکھے