Showing posts with label احمد آشنا. Show all posts
Showing posts with label احمد آشنا. Show all posts

Wednesday, 16 March 2022

کٹ گئی عمر ترے درد کو ریزہ کرتے

 کٹ گئی عمر تِرے درد کو ریزہ کرتے

کتنے دیوان ہوئے غم کا خلاصہ کرتے

جانے اس شخص کے کتنوں نے بھرم توڑے ہیں

اب جو ڈرتا ہے خدا پر بھی بھروسہ کرتے

یعنی ہم لوگ تِرے نقش قدم پر چلتے

کہ دُکاں کھولتے اور جھوٹ کو بیچا کرتے

Friday, 21 January 2022

ایسے مجمع ہے رقیبوں کا مرے یار کے گرد

 ایسے مجمع ہے رقیبوں کا مِرے یار کے گرد

جیسے مزدور اکٹھے ہوں کسی کار کے گرد

ان میں بس ایک ہی منت تھی بنا حرص و ہوس

ورنہ دھاگے تو بہت لٹکے تھے دربار کے گرد

ہم کہ دشمن کو ڈرانے کا ہنر جانتے ہیں

خون اپنا ہی لگا لیتے ہیں تلوار کے گرد

Monday, 21 June 2021

آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ

 آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ

سوکھا رومال مِرے ضبط کی زنبیل سمجھ

تم نے اس ہجر کے زنداں میں قدم رکھا ہے

چاروں اطراف کے دروازوں کو اب سِیل سمجھ

ایک مدت سے جڑا ہوں کسی تصویر کے ساتھ

مجھ کو دیوار میں گاڑا ہوا اک کِیل سمجھ

Wednesday, 16 June 2021

دکان حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا

 دکانِ حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا

گھٹن سے مر گیا جو کھڑکیاں بناتا تھا

تباہی یہ اسی پیپل کی بد دعا سے ہے

کہ جس کے سائے میں تُو آریاں بناتا تھا

تمام خواہشیں تالے لگا کے رکھتا تھا

وہ بے مکاں تھا مگر چابیاں بناتا تھا

Saturday, 24 April 2021

گدا گری کا حوالہ نہیں خرید سکا

 گداگری کا حوالہ نہیں خرید سکا

وہ پیٹ کاٹ کے پیالہ نہیں خرید سکا

کھُلے کواڑ پہ لکھا ہے؛ بند ہے چوکھٹ

وہ اک غریب کہ تالا نہیں خرید سکا

لحد سے پھُول اُٹھائے تو ایک ہار بُنا

خوشی کے وقت وہ مالا نہیں خرید سکا

Thursday, 18 March 2021

وہ میرے لمس مری دسترس سےباہر تھا

وہ میرے لمس مری دسترس سےباہر تھا

بڑا قریب تھا لیکن ہوس سے باہر تھا

وہ منجمد تھا کسی آنکھ کے اشارے پر

وہ بس کی سیٹ پہ بیٹھا بھی بس سے باہر تھا

سکڑ گیا کہ تسلسل سے گریہ زاری کی

میں پھل تھا ایسا کہ اپنے ہی رس سے باہر تھا

Thursday, 4 March 2021

خیال و خواب کے دفتر جگہ نہیں بنتی

 خیال و خواب کے دفتر، جگہ نہیں بنتی

کسی کی یاد ہے ازبر جگہ نہیں بنتی

نہ تیرے پاس سفارش ہے اور نہ پیسہ ہے

سو حکم یہ ہے کہ؛ جا گھر، جگہ نہیں بنتی

اسی لیے میں تِری بزم میں نہیں آتا

تِری جگہ کے برابر جگہ نہیں بنتی

Friday, 18 December 2020

جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی

 جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی

مرتے ہوئے گھٹن سے، ہوا کی خبر ملی

میں جس دوا کو وقتِ مقرر پہ کھا گیا

مدت گزر چکی تھی دوا کی، خبر ملی

اس کی یہ بد عا تھی کہ بد قسمتی مری

وقت جزا بھی مجھ کو سزا کی خبر ملی

Wednesday, 16 December 2020

کسے تمہاری نظر کے دیے پسند نہیں

 کسے تمہاری نظر کے دیے پسند نہیں

وہ میری آنکھ سے دیکھے جسے پسند نہیں

یہ میری زندگی کا مسئلہ ہے کچھ تو سمجھ

ہزار بار کہا، وہ مجھے پسند نہیں

تمہارے ہونٹ جہاں مس ہوئے گلاس کے ساتھ

وہیں سے دوسرا کوئی پیے، پسند نہیں

Tuesday, 15 December 2020

بڑے اصول بڑے ضابطے سے ملتا ہے

 بڑے اصول بڑے ضابطے سے ملتا ہے

وہ جب بھی ملتا ہے اک فاصلے سے ملتا ہے

ترے خیال سے غزلیں کشید کرتا ہوں

ترا جمال مرے قافیے سے ملتا ہے

مرید بن کے عقیدت سے پیش آتا ہوں

مجھے جو شخص ترے واسطے سے ملتا ہے

Monday, 14 December 2020

عملاً تو مانتے نہیں قائد کی بات کو

 عملاً تو مانتے نہیں قائد کی بات کو

کیوں رٹ رہے ہو بیٹھ کے چودہ نکات کو

جیسے ہمارے جسم پہ لکھی ہو بد دعا

پڑھتا نہیں ہے کوئی بھی ہم کاغذات کو

وہ نصف حصہ دار ہے میری دعاؤں کا

جو بد دعا بھی دیتا ہے شبِ برات کو

Sunday, 29 November 2020

ساتویں دن ہی اذیت سے معافی رکھے

 ساتویں دن ہی اذیت سے معافی رکھے

میری ہفتے میں کسی روز تو چھٹی رکھے

انگلیوں پر جو گنے ہجر میں کاٹے ہوئے پل

سبھی کے مشورے چھوڑے وہ ریاضی رکھے

اُس سے اِس واسطے کہتا ہوں کہ مر جاؤں گا

کبھی شاید مرے ہونٹوں پہ وہ انگلی رکھے