اس اک سال میں
کتنے سال گزاریں گے ہم
ہر اک دن، اک سال مثال
ہر اک دن کی صبح کا سورج حرف سوال
ہر اک دن کی جھلسی ہوئی اور بھیگی ہوئی دوپہر زوال
ہر اک دن کی، ہر اک شام شام جمال
اس اک سال میں
کتنے سال گزاریں گے ہم
ہر اک دن، اک سال مثال
ہر اک دن کی صبح کا سورج حرف سوال
ہر اک دن کی جھلسی ہوئی اور بھیگی ہوئی دوپہر زوال
ہر اک دن کی، ہر اک شام شام جمال
مشورہ
کبھی تم بھی تنہا درختوں سے آباد
گونگی چٹانوں پہ سوئے ہوئے
موسموں کی کہانی سنو
ان کی آنکھوں سے بچھڑی ہوئی نیند
اور خواب کی سرحدوں سے بہت دور
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام
سرِ دشتِ کرب و بلا ابھی وہی رنگِ ماہِ تمام ہے
وہی خیمہ گاہِ سکینہؑ ہے وہی سجدہ گاہِ امامؑ ہے
ابھی چشم و دل سے چھٹے نہیں، تِرے صبر و ضبط کے مرحلے
وہی صبر و ضبط کے مرحلے، وہی تیرے قتل کی شام ہے
وہی مشک شانۂ صبر پر، وہی تیر پیاس کے حلق میں
وہی آبجوئے فُرات ہے، وہی اس کا طرزِ خرام ہے
آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں
کنجِ لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اک شہر تخیّل میں تجھے
اور میرے پاس تیرے گھر کی نشانی بھی نہیں
بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح
اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں
چلو اے جانِ جاں اب ایسا کرتے ہیں
کرونا وہ رقیبِ جاں طلب ہے
جو بے آواز چل کر
آپ کی سانسوں کے رستے
روح کی تہہ میں اُترتا ہے
سو اے میرے محبت زاد
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
برگِ گل، شاخِ ہجر کا کر دے
اے خدا! اب مجھے ہرا کر دے
ہر پلک ہو نم آشنا مجھ سے
میرا لہجہ بہار سا کر دے
مجھ کو روشن مِرے بیان میں کر
خامشی کو بھی آئینہ کر دے
اجازت
شاہزادی
یہ جو تیری ساحر آنکھوں میں
عجب انداز کے جگنو چمکنے کے لیے بے تاب ہیں
پلکیں اُٹھا اور اب انہیں آزادِ رم کر دے
ایک لمحے کو
مجھے ان جگنوؤں سے بات کرنے دے
خود کلامی
آئسولیشن میں ایک مریض اپنے ہمزاد سے
اگر ہم ایک ہیں
تو پھر
ہمیں ڈرنا نہیں
لڑنا ہے، ایک ان دیکھے دشمن سے
جو خیمہ زن ہے
اندیشے
چُپ سی لگ جاتی ہے
رُوح کے ہر اک تار میں تیرے ہجر چمک اُٹھتے ہیں
تجھ سے ملتے وقت مِری جاں
جسم و جاں کے ہر ریشے میں
کچے پکے اور ادھورے خواب مہک اُٹھتے ہیں
شہزادی
مِری بات سنو
اک لمحے کو
یہ ساحر آنکھیں بند کرو
میں حرفِ صبا کی طرح
جھُک کر
تم سے کہنا تھا
اک نظر کی فرصت میں
سطحِ دل پہ کھِل اُٹھے
لفظ بھی، معانی بھی
خامشی کی جھلمل میں
آگ بھی تھی پانی بھی
خود کلامی
(آئسولیشن میں ایک مریض اپنے ہمزاد سے)
اگر ہم ایک ہیں
تو پھر
ہمیں ڈرنا نہیں
لڑنا ہے، ایک ان دیکھے دشمن سے
سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے
رات گئے جب کوئی دریچہ کھلتا ہے
خواب کے جھونکے آنکھوں سے ٹکراتے ہیں
نفس نفس اک شعلہ سا لہراتا ہے
ہاتھ دعاؤں سے خالی ہو جاتے ہیں
آنکھوں میں سناٹا سا بھر جاتا ہے
کوئی نہ دیکھے گونج ہوا کی
نگراں ہے اک ذات خدا کی
کھو گئیں چھوٹی چھوٹی اڑانیں
پھیلتے شہروں میں چڑیا کی
جتنے صحرا وہ سب میرے
سونا ہے مٹی دنیا کی