Showing posts with label ایوب خاور. Show all posts
Showing posts with label ایوب خاور. Show all posts

Sunday, 21 April 2024

اس اک سال میں کتنے سال گزاریں گے ہم

 اس اک سال میں 

کتنے سال گزاریں گے ہم 

ہر اک دن، اک سال مثال 

ہر اک دن کی صبح کا سورج حرف سوال 

ہر اک دن کی جھلسی ہوئی اور بھیگی ہوئی دوپہر زوال 

ہر اک دن کی، ہر اک شام شام جمال 

Tuesday, 21 March 2023

کبھی تم بھی تنہا درختوں سے آباد

 مشورہ


کبھی تم بھی تنہا درختوں سے آباد

گونگی چٹانوں پہ سوئے ہوئے

موسموں کی کہانی سنو

ان کی آنکھوں سے بچھڑی ہوئی نیند 

اور خواب کی سرحدوں سے بہت دور

Tuesday, 9 August 2022

سر دشت کرب و بلا ابھی وہی رنگ ماہ تمام ہے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام


سرِ دشتِ کرب و بلا ابھی وہی رنگِ ماہِ تمام ہے

وہی خیمہ گاہِ سکینہؑ ہے وہی سجدہ گاہِ امامؑ ہے

ابھی چشم و دل سے چھٹے نہیں، تِرے صبر و ضبط کے مرحلے

وہی صبر و ضبط کے مرحلے، وہی تیرے قتل کی شام ہے

وہی مشک شانۂ صبر پر، وہی تیر پیاس کے حلق میں

وہی آبجوئے فُرات ہے، وہی اس کا طرزِ خرام ہے

Tuesday, 26 April 2022

آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں

 آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں

کنجِ لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں

ڈھونڈتا پھرتا ہوں اک شہر تخیّل میں تجھے

اور میرے پاس تیرے گھر کی نشانی بھی نہیں

بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح

اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں

Friday, 28 January 2022

کرونا وہ رقیب جاں طلب ہے

 چلو اے جانِ جاں اب ایسا کرتے ہیں


کرونا وہ رقیبِ جاں طلب ہے

جو بے آواز چل کر

آپ کی سانسوں کے رستے 

روح کی تہہ میں اُترتا ہے

سو اے میرے محبت زاد

Tuesday, 30 November 2021

برگ گل شاخ ہجر کا کر دے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


برگِ گل، شاخِ ہجر کا کر دے

اے خدا! اب مجھے ہرا کر دے

ہر پلک ہو نم آشنا مجھ سے

میرا لہجہ بہار سا کر دے

مجھ کو روشن مِرے بیان میں کر

خامشی کو بھی آئینہ کر دے

Monday, 9 August 2021

شاہزادی یہ جو تیری ساحر آنکھوں میں

 اجازت


شاہزادی

یہ جو تیری ساحر آنکھوں میں

عجب انداز کے جگنو چمکنے کے لیے بے تاب ہیں

پلکیں اُٹھا اور اب انہیں آزادِ رم کر دے

ایک لمحے کو

مجھے ان جگنوؤں سے بات کرنے دے

Tuesday, 13 July 2021

آئسولیشن میں ایک مریض اپنے ہمزاد سے

 خود کلامی

آئسولیشن میں ایک مریض اپنے ہمزاد سے


اگر ہم ایک ہیں

تو پھر

ہمیں ڈرنا نہیں

لڑنا ہے، ایک ان دیکھے دشمن سے

جو خیمہ زن ہے

Monday, 24 May 2021

چپ سی لگ جاتی ہے

 اندیشے


چُپ سی لگ جاتی ہے

رُوح کے ہر اک تار میں تیرے ہجر چمک اُٹھتے ہیں

تجھ سے ملتے وقت مِری جاں

جسم و جاں کے ہر ریشے میں

کچے پکے اور ادھورے خواب مہک اُٹھتے ہیں

Sunday, 16 May 2021

شہزادی مری بات سنو

 شہزادی

مِری بات سنو

اک لمحے کو

یہ ساحر آنکھیں بند کرو

میں حرفِ صبا کی طرح

جھُک کر

Wednesday, 5 May 2021

لمس بھر کی قربت تھی لمحہ بھر کا سپنا تھا

 تم سے کہنا تھا

اک نظر کی فرصت میں

سطحِ دل پہ کھِل اُٹھے

لفظ بھی، معانی بھی

خامشی کی جھلمل میں

آگ بھی تھی پانی بھی

Monday, 3 May 2021

اگر ہم ایک ہیں تو پھر ہمیں ڈرنا نہیں لڑنا ہے

 خود کلامی

(آئسولیشن میں ایک مریض اپنے ہمزاد سے)


اگر ہم ایک ہیں

تو پھر

ہمیں ڈرنا نہیں

لڑنا ہے، ایک ان دیکھے دشمن سے

Tuesday, 13 October 2020

سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے

 سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے

رات گئے جب کوئی دریچہ کھلتا ہے

خواب کے جھونکے آنکھوں سے ٹکراتے ہیں

نفس نفس اک شعلہ سا لہراتا ہے

ہاتھ دعاؤں سے خالی ہو جاتے ہیں

آنکھوں میں سناٹا سا بھر جاتا ہے

Saturday, 10 October 2020

کوئی نہ دیکھے گونج ہوا کی

 کوئی نہ دیکھے گونج ہوا کی

نگراں ہے اک ذات خدا کی 

کھو گئیں چھوٹی چھوٹی اڑانیں 

پھیلتے شہروں میں چڑیا کی 

جتنے صحرا وہ سب میرے 

سونا ہے مٹی دنیا کی 

Saturday, 29 August 2020

آپ کے در پہ بہت دیر سے بیٹھے ہوئے ہیں

آپ کے در پہ بہت دیر سے بیٹھے ہوئے ہیں
ہاتھ اٹھاۓ تھے دعا کے لیے، اٹھے ہوئے ہیں
خواب کب تھا وہ تو اِک نیند کا جھونکا تھا حضور
آپ اب تک اسی اک وہم میں الجھے ہوئے ہیں
💓مدتوں بعد سہی ایک نظر دیکھ تو لو💓
ہم وہی ہیں جو تِرے عشق کے سینچے ہوئے ہیں

ہاتھ اس شخص کو ہم سے بھی تو دھونے پڑے ہیں

اشکِ آخر تو نہیں ہیں جو بلونے پڑے ہیں
دل میں دو چار ابھی اور بھی کونے پڑے ہیں
کس کی دلجوئی کریں اور دلاسا کسے دیں؟؟
کیا کریں ہم کہ ہمیں اپنے ہی رونے پڑے ہیں
ایک دہشت در و دیوار سے چپکی ہوئی ہے
لاش کے پاس ہی بچے کے کھلونے پڑے ہیں

Friday, 28 August 2020

اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے

اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے
یہ وہ دریا ہے،۔ جسے پار نہیں کر سکتے
آپ چاہیں تو کریں درد کو دل سے مشروط
ہم تو اس طرح کا بیوپار نہیں کر سکتے
جان جاتی ہے تو جائے، مگر اے دشمنِ جاں
ہم کبھی تجھ پہ کوئی وار نہیں کر سکتے

نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے

نہ کوئی دن نہ کوئی رات انتظار کی ہے
کہ یہ جدائی بھروسے کی، اعتبار کی ہے
جو خاک اڑی ہے مِرے دکھ سمیٹ لیں گے اسے
جو بچھ گئی سرِ مژگاں، وہ رہ گزار کی ہے
یہ آرزو کہ کھلے انگلیوں پہ عکسِ جمال
اس آرزو میں کہیں بات اختیار کی ہے

Tuesday, 25 August 2020

تمہیں جانے کی جلدی تھی

تمہیں جانے کی جلدی تھی

تمہیں جانے کی جلدی تھی
سو اپنی جلدبازی میں
تم اپنے لمس کی کرنیں، نظر کے زاویے، پوروں کی شمعیں
 میرے سینے میں بھڑکتا چھوڑ آئے ہو
وہاں تکیے کے نیچے

برف گنگناتی ہے

برف گنگناتی ہے
رات چلنے لگتی ہے
گہری نیند کا جنگل، اک ذرا سی آہٹ سے
 سرسرانے لگتا ہے
دل کی ٹمٹماہٹ میں خوف کھوئے جانے کا
 کسمسانے لگتا ہے