Monday, 9 August 2021

شاہزادی یہ جو تیری ساحر آنکھوں میں

 اجازت


شاہزادی

یہ جو تیری ساحر آنکھوں میں

عجب انداز کے جگنو چمکنے کے لیے بے تاب ہیں

پلکیں اُٹھا اور اب انہیں آزادِ رم کر دے

ایک لمحے کو

مجھے ان جگنوؤں سے بات کرنے دے

ذرا ان کے پروں کی سرسراہٹ کو

مِرے دل میں اُترنے دے

چاندنی جیسی ملائم خامشی میں

ان ستاروں کو مِرے تن پر بکھرنے دے

ان کی جھلمل کو

مِرے ہاتھوں کی پوروں میں سُلگنے دے

ایک لمسِ اولیں کی آنچ پر

ان کی اُڑانوں کو پگھلنے دے

مجھے ان جگنوؤں کے ساتھ

اپنے وصل کے سانچے میں ڈھلنے دے


ایوب خاور

No comments:

Post a Comment