اجازت
شاہزادی
یہ جو تیری ساحر آنکھوں میں
عجب انداز کے جگنو چمکنے کے لیے بے تاب ہیں
پلکیں اُٹھا اور اب انہیں آزادِ رم کر دے
ایک لمحے کو
مجھے ان جگنوؤں سے بات کرنے دے
ذرا ان کے پروں کی سرسراہٹ کو
مِرے دل میں اُترنے دے
چاندنی جیسی ملائم خامشی میں
ان ستاروں کو مِرے تن پر بکھرنے دے
ان کی جھلمل کو
مِرے ہاتھوں کی پوروں میں سُلگنے دے
ایک لمسِ اولیں کی آنچ پر
ان کی اُڑانوں کو پگھلنے دے
مجھے ان جگنوؤں کے ساتھ
اپنے وصل کے سانچے میں ڈھلنے دے
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment