Showing posts with label نقاش کاظمی. Show all posts
Showing posts with label نقاش کاظمی. Show all posts

Saturday, 31 July 2021

دل یہ کہتا ہے کہ رویا جائے

 دل یہ کہتا ہے کہ؛ رویا جائے

آنکھ کے پیالوں کو دھویا جائے

لے اُڑا خواب تو آنکھوں سے کوئی 

اب نہ آرام سے سویا جائے

ہار جب ٹُوٹ کے بکھرے ہر سُو

آنسوؤں کو ہی پرویا جائے

Thursday, 30 July 2020

لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا

لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا 
بھولی بسری یادیں سب کی آگے بھی دہراؤ تو کیا 
کون کسی کا درد سمیٹے کون کسی کا دوست بنے 
اپنا درد ہے اپنا پیارے! لوگوں کو دِکھلاؤ تو کیا 
پہلے تو تم آگ لگا کر سب کچھ جلتا چھوڑ گئے 
دیواریں تاریک ہوئی ہیں اب اس گھر میں آؤ تو کیا 

ٹوٹا ہے آج ابر جو اس آن بان سے

ٹوٹا ہے آج ابر جو اس آن بان سے 
برسے گا کل لہو بھی تِرے آسمان سے 
یہ کس کے دل کی آگ سے جلتے ہیں بام و در 
شعلے سے اٹھ رہے ہیں بدن کے مکان سے 
سورج کی تیز دھوپ سے شاید اماں ملے 
رکتی ہے غم کی دھوپ کہیں سائبان سے 

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے 
پھر درد کی لے بکھر نہ جائے 
جب اس کی نگاہ اس طرف ہے 
کیوں میری نظر ادھر نہ جائے 
ہے فصلِ جنوں کی آمد آمد 
پیڑوں کا لباس اتر نہ جائے 

Tuesday, 28 July 2020

آج کشمیر میں کیا مشق ستم جاری ہے

آج کشمیر میں

کیا کشمکشیں جاری ہیں
کیا مشق ستم
آئیں دیکھیں تو ذرا، آئیں سوچیں تو سہی
اک طرف ہندوکش کوہ گراں
اک طرف یو ایس اے
اک طرف شہ رگِ جاں

سکوت شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے

سکوتِ شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے
بجھے چراغ تو پھر جسم و جاں جلانے دے
دکھوں کے خواب نما نیم وا دریچوں میں
وفورِ کرب سے تاروں کو جھلملانے دے
جلانا چاہے اگر چاہتوں کا سورج بھی
بدن کے شہر کو اس دھوپ میں جلانے دے

پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا

پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا
اک شخص میری روح پہ نشتر چلا گیا
مجھ سے خطا ہوئی تھی کہ ایسی مِرا خدا
ناراض ہو کے شہر سے باہر چلا گیا
شیشے لہولہان پڑے ہیں جو فرش پر
کھڑکی پہ کوئی مار کے پتھر چلا گیا

Wednesday, 2 November 2016

کوئی چراغ تخیل نہ میری راہ میں رکھ

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام

کوئی چراغِ تخیل نہ میری راہ میں رکھ
بس اک سلام کا گوہر میری کلاہ میں رکھ
اگرچہ تُو کسی سچائی کا مؤرخ ہے
یزیدِ عصر کو بھی دفترِ سپاہ میں رکھ
بکھیر صفحۂ قرطاس پر لہو کے حروف
قلم سنبھال کے مت دل کی خانقاہ میں رکھ

رکھ کے دل بهول گئے کوچۂ دلدار کے پاس

رکھ کے دل بهول گئے کوچۂ دلدار کے پاس
اک چراغ اور جلا یارِ طرح دار کے پاس
چال اکثر ہی الٹ دیتی ہے ہر تیغِ وفا
دل کھنچا جاتا ہے خود ناوکِ دلدار کے پاس
اپنی دیوار گرائی بھی تو رستہ نہ کھلا
کوئی دیوار کھڑی تھی میری دیوار کے پاس

کون سی وہ زبان بولتا ہے

کون سی وہ زبان بولتا ہے
جیسے اک آسمان بولتا ہے
جسم میں کشتیاں سی تیرتی ہیں
روح میں بادبان بولتا ہے
مجھ کو لگتی ہے اپنی ہر آواز
جیسے خالی مکان بولتا ہے

نظام زر کا جو کہنہ طلسم توڑ گئے

منشور

نظامِ زر کا جو کہنہ طلسم توڑ گئے
وہ شاہراہ پہ نقشِ حیات چھوڑ گے
خراج لے کے رہیں گے اسی قیادت کا
ہمیں یقیں ہے کہ نوری سخر تو آئے گی
سراغ مل نہ سکے گا کہیں بھی ظلمت کا
یقین ہے نئی تحریک بن کے ابھرے گا