رکھ کے دل بهول گئے کوچۂ دلدار کے پاس
اک چراغ اور جلا یارِ طرح دار کے پاس
چال اکثر ہی الٹ دیتی ہے ہر تیغِ وفا
دل کھنچا جاتا ہے خود ناوکِ دلدار کے پاس
اپنی دیوار گرائی بھی تو رستہ نہ کھلا
چشمِ خوں رنگ میں یادوں کا لہو ناچتا ہے
خواب کتنے ہیں گراں دیدۂ بیدار کے پاس
رنگتیں ساری تھیں، نقاشؔ! ہمارے ہی طفیل
اپنی رونق بھی نہ تھی رونقِ بازار کے پاس
نقاش کاظمی
No comments:
Post a Comment