Wednesday, 2 November 2016

رکھ کے دل بهول گئے کوچۂ دلدار کے پاس

رکھ کے دل بهول گئے کوچۂ دلدار کے پاس
اک چراغ اور جلا یارِ طرح دار کے پاس
چال اکثر ہی الٹ دیتی ہے ہر تیغِ وفا
دل کھنچا جاتا ہے خود ناوکِ دلدار کے پاس
اپنی دیوار گرائی بھی تو رستہ نہ کھلا
کوئی دیوار کھڑی تھی میری دیوار کے پاس
چشمِ خوں رنگ میں یادوں کا لہو ناچتا ہے
خواب کتنے ہیں گراں دیدۂ بیدار کے پاس
رنگتیں ساری تھیں، نقاشؔ! ہمارے ہی طفیل
اپنی رونق بھی نہ تھی رونقِ بازار کے پاس

نقاش کاظمی

No comments:

Post a Comment