Showing posts with label شہزاد عجمی. Show all posts
Showing posts with label شہزاد عجمی. Show all posts

Monday, 17 February 2025

نہیں نہیں ہے مجھے اعتبار شیشے پر

 نہیں نہیں ہے مجھے اعتبار شیشے پر

پڑا ہی رہنے دو گرد و غُبار شیشے پر

تُو جا رہا ہے تو یہ آئینہ بھی لیتا جا

نظر پڑے گی مِری بار بار شیشے پر

ہُوا ہے چُور تو بکھری پڑی ہے خاکِ بدن

رکھا تھا کس نے یہ اپنا مزار شیشے پر

Tuesday, 15 October 2024

جیتے جی کاش مولا یوں اک بار ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جیتے جی کاش مولا یوں اک بار ہو

خواب میں ہی سہی ان کا دیدار ہو

میرے آقاؐ ہوں مسند پہ  بیٹھے ہوئے

اور قدموں سے لِپٹا گُنہ گار ہو

ان کی مُہر نبوّت کے بوسے جو لوں

پھر شفا یاب کیسے نہ بیمار ہو 

Friday, 31 May 2024

پہلے تو کر لے یقیں محکم خدائے پاک پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 پہلے تو کر لے یقیں محکم خدائے پاک پر

کامیابی کے لیے پھر رکھ نظر افلاک پر

شُکر کرتے ہیں خدا کا لوگ جو ہر حال میں 

نیند کر لیتے ہیں پوری وہ خس و خاشاک پر

آئینۂ دل میں رکھتا ہوں خیالِ یار کو

سوچ کا محور گھماتا ہوں میں جب بھی چاک پر

Thursday, 30 May 2024

چین پاؤں گا بس یہیں پر میں

 چین پاؤں گا بس یہیں پر میں

ہونٹ رکھوں تِری جبیں پر میں

اس کے جیسا کوئی مِلا کب تھا

کیسے مرتا نہ اُس حسیں پر میں

ایک دن لوٹ کے وہ آئے گا

جی رہا ہوں اِسی یقیں پر میں

Tuesday, 19 April 2022

دعا کرو مرے حق میں کہ میرے یار ملے

 دعا کرو مِرے حق میں کہ میرے یار ملے

مجھے بھی اب کوئی اچھا سا کاروبار ملے

انا پہ بوجھ ہے غیروں کی چاکری کرنا

ہو میرا اپنا خدایا! جو روزگار ملے

کئی برس کی تھکن دور ہو گئی میری

گلے میں ڈال کے باہوں کا جب وہ ہار ملے