نہیں نہیں ہے مجھے اعتبار شیشے پر
پڑا ہی رہنے دو گرد و غُبار شیشے پر
تُو جا رہا ہے تو یہ آئینہ بھی لیتا جا
نظر پڑے گی مِری بار بار شیشے پر
ہُوا ہے چُور تو بکھری پڑی ہے خاکِ بدن
رکھا تھا کس نے یہ اپنا مزار شیشے پر
نہیں نہیں ہے مجھے اعتبار شیشے پر
پڑا ہی رہنے دو گرد و غُبار شیشے پر
تُو جا رہا ہے تو یہ آئینہ بھی لیتا جا
نظر پڑے گی مِری بار بار شیشے پر
ہُوا ہے چُور تو بکھری پڑی ہے خاکِ بدن
رکھا تھا کس نے یہ اپنا مزار شیشے پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جیتے جی کاش مولا یوں اک بار ہو
خواب میں ہی سہی ان کا دیدار ہو
میرے آقاؐ ہوں مسند پہ بیٹھے ہوئے
اور قدموں سے لِپٹا گُنہ گار ہو
ان کی مُہر نبوّت کے بوسے جو لوں
پھر شفا یاب کیسے نہ بیمار ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پہلے تو کر لے یقیں محکم خدائے پاک پر
کامیابی کے لیے پھر رکھ نظر افلاک پر
شُکر کرتے ہیں خدا کا لوگ جو ہر حال میں
نیند کر لیتے ہیں پوری وہ خس و خاشاک پر
آئینۂ دل میں رکھتا ہوں خیالِ یار کو
سوچ کا محور گھماتا ہوں میں جب بھی چاک پر
چین پاؤں گا بس یہیں پر میں
ہونٹ رکھوں تِری جبیں پر میں
اس کے جیسا کوئی مِلا کب تھا
کیسے مرتا نہ اُس حسیں پر میں
ایک دن لوٹ کے وہ آئے گا
جی رہا ہوں اِسی یقیں پر میں
دعا کرو مِرے حق میں کہ میرے یار ملے
مجھے بھی اب کوئی اچھا سا کاروبار ملے
انا پہ بوجھ ہے غیروں کی چاکری کرنا
ہو میرا اپنا خدایا! جو روزگار ملے
کئی برس کی تھکن دور ہو گئی میری
گلے میں ڈال کے باہوں کا جب وہ ہار ملے