عشق چاہت کا نام ہوتا ہے
حُسن کا احترام ہوتا ہے
محفلِ دل میں یار کا چرچا
صبح ہوتا ہے، شام ہوتا ہے
درد مندوں کا حال مت پوچھو
ان کو غم سے ہی کام ہوتا ہے
عشق چاہت کا نام ہوتا ہے
حُسن کا احترام ہوتا ہے
محفلِ دل میں یار کا چرچا
صبح ہوتا ہے، شام ہوتا ہے
درد مندوں کا حال مت پوچھو
ان کو غم سے ہی کام ہوتا ہے
اب تمنا ہے تُو قریب رہے
جان و دل میں مِرے حبیب رہے
دونوں عالم رہیں رہیں نہ رہیں
تیری قُربت مگر نصیب رہے
تم مِرے پاس ہو تو کیا غم ہے
گو زمانہ مِرا رقیب رہے
شعلۂ عشق نے جلا ڈالا
کیا تھا میں، اور کیا بنا ڈالا
مجھ اس دلنشیں نے اپنا کر
دل سے ہر بُت مِرے گِرا ڈالا
مجھ ایسا شعور بخشا گیا
جس نے غم کا دِیا بُجھا ڈالا
مجھے بار بار صدا نہ دے، مری حسرتوں کو ہوا نہ دے
مِرے دل میں آتش عشق ہے، میری آگ تجھ کو جلا نہ دے
مِرا عشق ہے میری زندگی، مِرا عشق ہے میری بندگی
مجھے عاشقوں میں شمار کر، مجھے عاشقی کا صِلہ نہ دے
مجھے درد و سوز و گداز دے، مجھے اپنے غم سے نواز دے
تیرا درد بھی میرے دل میں ہو، مجھے درد دل کی دوا نہ دے
مجھے قدرداں نہ سمجھ سکے
مجھے رازداں نہ سمجھ سکے
میں وہ راز ہوں میرے دوستو
جسے رازداں نہ سمجھ سکے
مِری بے خودی سے خطا ہوئی
مجھے مے کدے سے اُٹھا دیا