Showing posts with label گلزار صابری. Show all posts
Showing posts with label گلزار صابری. Show all posts

Monday, 1 April 2024

عشق چاہت کا نام ہوتا ہے

 عشق چاہت کا نام ہوتا ہے

حُسن کا احترام ہوتا ہے

محفلِ دل میں یار کا چرچا

صبح ہوتا ہے، شام ہوتا ہے

درد مندوں کا حال مت پوچھو

ان کو غم سے ہی کام ہوتا ہے

Friday, 9 February 2024

اب تمنا ہے تو قریب رہے

 اب تمنا ہے تُو قریب رہے

جان و دل میں مِرے حبیب رہے

دونوں عالم رہیں رہیں نہ رہیں

تیری قُربت مگر نصیب رہے

تم مِرے پاس ہو تو کیا غم ہے

گو زمانہ مِرا رقیب رہے

Wednesday, 20 December 2023

شعلۂ عشق نے جلا ڈالا

 شعلۂ عشق نے جلا ڈالا

کیا تھا میں، اور کیا بنا ڈالا

مجھ اس دلنشیں نے اپنا کر

دل سے ہر بُت مِرے گِرا ڈالا

مجھ ایسا شعور بخشا گیا

جس نے غم کا دِیا بُجھا ڈالا

Saturday, 30 April 2022

مجھے بار بار صدا نہ دے مری حسرتوں کو ہوا نہ دے

مجھے بار بار صدا نہ دے، مری حسرتوں کو ہوا نہ دے

مِرے دل میں آتش عشق ہے، میری آگ تجھ کو جلا نہ دے

مِرا عشق ہے میری زندگی، مِرا عشق ہے میری بندگی

مجھے عاشقوں میں شمار کر، مجھے عاشقی کا صِلہ نہ دے

مجھے درد و سوز و گداز دے، مجھے اپنے غم سے نواز دے

تیرا درد بھی میرے دل میں ہو، مجھے درد دل کی دوا نہ دے

Saturday, 17 April 2021

مجھے قدرداں نہ سمجھ سکے مجھے رازداں

مجھے قدرداں نہ سمجھ سکے

مجھے رازداں نہ سمجھ سکے

میں وہ راز ہوں میرے دوستو

جسے رازداں نہ سمجھ سکے

مِری بے خودی سے خطا ہوئی

مجھے مے کدے سے اُٹھا دیا