Showing posts with label رہبر سلطانی. Show all posts
Showing posts with label رہبر سلطانی. Show all posts

Friday, 12 June 2026

ایک مسافر کی مجبوری سمجھو ناں

 ایک مُسافر کی مجبوری سمجھو ناں

ذرے سے مہتاب کی دُوری سمجھو ناں

خانہ بدوشوں کی پُشتوں پہ رکھی ہے

روشن مُسقبل کی بوری سمجھو ناں

تم نے اُونچائی کی جانب پھینکا ہے

نیچے گِرنا بھی تو ضروری سمجھو ناں

Thursday, 11 June 2026

اے سایۂ شب نالۂ سفاک بند ہو

 اے سایۂ شب، نالۂ سفاک بند ہو

نیندوں کی کھلی جاتی ہے پیچاک بند ہو

معمارِ ہوا ایسا بھی زِندان بناؤ

جس خاک سے آنکھیں ہوئیں نمناک، بند ہو

تشکیل نہ دے حلیۂ سفاک، ٹھہر جا

اب رہنِ سِتم رقص ہوا، چاک بند ہو

Sunday, 23 January 2022

ہم زباں ہو گئے ہم لوگ شناسائی ہوئی

ہم زباں ہو گئے ہم لوگ شناسائی ہوئی

شب کے سناٹوں میں جب روبرو تنہائی ہوئی

آپ کا بزم سے اٹھا جانا مِرے حق میں رہا

آپ کے بعد مِری خوب پذیرائی ہوئی

پیاس زخمی رہی زندان کے دروازوں تک

بہتے دریاؤ! کہاں تم سے مسیحائی ہوئی

Tuesday, 4 January 2022

اس توقع میں شب و روز گزارا جائے

اس توقع میں شب و روز گزارا جائے

چڑھتی سانسوں کا کہیں بوجھ اتارا جائے

ہم سبھی لوگ ہیں پانی کی تہوں میں بیٹھے

موج طے کرتی ہے کب کس کو ابھارا جائے

اپنے اطراف کے سناٹے کو بھرنے کے لیے

آ کسی درد کے پہلو کو نکھارا جائے