ایک مُسافر کی مجبوری سمجھو ناں
ذرے سے مہتاب کی دُوری سمجھو ناں
خانہ بدوشوں کی پُشتوں پہ رکھی ہے
روشن مُسقبل کی بوری سمجھو ناں
تم نے اُونچائی کی جانب پھینکا ہے
نیچے گِرنا بھی تو ضروری سمجھو ناں
ایک مُسافر کی مجبوری سمجھو ناں
ذرے سے مہتاب کی دُوری سمجھو ناں
خانہ بدوشوں کی پُشتوں پہ رکھی ہے
روشن مُسقبل کی بوری سمجھو ناں
تم نے اُونچائی کی جانب پھینکا ہے
نیچے گِرنا بھی تو ضروری سمجھو ناں
اے سایۂ شب، نالۂ سفاک بند ہو
نیندوں کی کھلی جاتی ہے پیچاک بند ہو
معمارِ ہوا ایسا بھی زِندان بناؤ
جس خاک سے آنکھیں ہوئیں نمناک، بند ہو
تشکیل نہ دے حلیۂ سفاک، ٹھہر جا
اب رہنِ سِتم رقص ہوا، چاک بند ہو
ہم زباں ہو گئے ہم لوگ شناسائی ہوئی
شب کے سناٹوں میں جب روبرو تنہائی ہوئی
آپ کا بزم سے اٹھا جانا مِرے حق میں رہا
آپ کے بعد مِری خوب پذیرائی ہوئی
پیاس زخمی رہی زندان کے دروازوں تک
بہتے دریاؤ! کہاں تم سے مسیحائی ہوئی
اس توقع میں شب و روز گزارا جائے
چڑھتی سانسوں کا کہیں بوجھ اتارا جائے
ہم سبھی لوگ ہیں پانی کی تہوں میں بیٹھے
موج طے کرتی ہے کب کس کو ابھارا جائے
اپنے اطراف کے سناٹے کو بھرنے کے لیے
آ کسی درد کے پہلو کو نکھارا جائے