Showing posts with label افکار علوی. Show all posts
Showing posts with label افکار علوی. Show all posts

Friday, 17 February 2023

مختلف رنگوں سے دنیا ہم کو سمجھاتی رہی

 مختلف رنگوں سے دنیا ہم کو سمجھاتی رہی 

اپنی فطرت پھر بھی دیہاتی کی دیہاتی رہی

خالقا! وے خالقا! ہم تو تِرے شہکار تھے

لے تِری دنیا تِرے شہکار ٹُھکراتی رہی 

کون مومن، کون ملحد بارگاہِ عشق میں

مجلسیں پڑھتی تھی وہ اور میرے گُن گاتی رہی

Thursday, 16 February 2023

عنقریب انسان ناپید ہو جائیں گے

 پرونیٹ


عنقریب انسان ناپید ہو جائیں گے

پُر امن زندگی، درندے بے فکر پھریں گے

پرندے اگر اڑے تو اپنی مرضی سے اڑیں گے

شیر ہرنیوں کو اپنے پیٹ پہ بیٹھا کر انسانی کہانیاں سنائیں گے

زمین کو اب امن دینے کی ٹھان لی جائے گی

Monday, 17 October 2022

کچھ ایسے درد ہماری جوانیوں میں بٹے

 کچھ ایسے درد ہماری جوانیوں میں بٹے

ہنسی کو زور سے ہنس دیں تو سسکیوں میں بٹے

اکٹھے بیٹھ کے ہم نے شراب نوشی کی

خدا سے ملنے گئے تو نمازیوں میں بٹے

دھماکے والے نے رنگوں کا فرق مار دیا

تمام جسم فقط لال کرچیوں میں بٹے

Tuesday, 5 July 2022

جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے

 جو بھی عزت کے ڈر سے، ڈر جائے

مت کرے عشق، اپنے گھر جائے

بات آ جائے جب دعاؤں پر

اس سے بہتر ہے بندہ مر جائے

تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ

میری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے

Monday, 18 April 2022

کچھ ایسے درد ہماری جوانیوں میں بٹے

 کچھ ایسے درد ہماری جوانیوں میں بٹے

ہنسی کو زور سے ہنس دیں تو سسکیوں میں بٹے

اکٹھے بیٹھ کے ہم نے شراب نوشی کی

خدا سے ملنے گئے تو نمازیوں میں بٹے

دھماکے والے نے رنگوں کا فرق مار دیا

تمام جسم فقط لال کرچیوں میں بٹے

Sunday, 27 March 2022

دوستا ان دنوں میں بڑی بے سکونی میں ہوں

 بے سکونی


دوستا! ان دنوں میں بڑی بے سکونی میں ہوں

بے سکونی کا مت پوچھ کیا ہے؟ بلا ہے

بے سکونی کا چہرہ کبھی جاگتی آنکھوں میں دیکھنا

بے سکونی کا چہرہ کبھی ایسے افراد میں دیکھنا 

جن کو چپ لگ گئی

Wednesday, 9 March 2022

مرے ودود معافی ہمیں ندامت ہے

 قنوط


مرے ودود! معافی، ہمیں ندامت ہے

کہ خوش نہیں ہیں تِری کائنات میں آ کر

تِری زمیں سے ہم ایسے شکستہ دل ہوئے ہیں

کہ ہم پہ مذہبی پابندیاں نہ ہوتیں تو

ہم ایسے لوگ وصیت میں لکھ کے مر جاتے؛

Tuesday, 8 March 2022

ہمیں بزرگوں نے تلقین کی اپیل کے ساتھ

 ہمیں بزرگوں نے تلقین کی اپیل کے ساتھ

کہ ساتھ رہنا تو رہنا کسی اصیل کے ساتھ

دلوں میں خوف بٹھانا تو بدمعاشی ہے

دلوں میں بات بٹھاؤ کسی دلیل کے ساتھ

اب اس مقام پہ لا کر کھڑا کیا ہے اسے

وہ میرے ساتھ چلے گی یا عزرائیل کے ساتھ

Wednesday, 25 August 2021

پھر سے مدہوش ہوئے بہکے بڑے بین کیے

 پھر سے مدہوش ہوئے، بہکے، بڑے بَین کیے

وہ بہت ہنسے میاں ہم نے بڑے بین کیے

کل وہاں عشق کے ماروں کی عزاداری تھی

اور ہم نے بھی وہاں جا کے بڑے بین کیے

ایک وہ ایک کہ جو پھر سے اداکار بنا

ایک یہ لوگ کہ جو سمجھے، بڑے بین کیے

Thursday, 15 July 2021

دوستا ان دنوں میں بڑی بے سکونی میں ہوں

 بے سکونی


دوستا! ان دنوں میں بڑی بے سکونی میں ہوں

بے سکونی کا مت پوچھ کیا ہے؟ بلا ہے

بے سکونی کا چہرہ کبھی جاگتی آنکھوں میں دیکھنا

بے سکونی کا چہرہ کبھی ایسے افراد میں دیکھنا 

جن کو چُپ لگ گئی

Wednesday, 30 June 2021

ہمارے دور کو برباد کر گئے افکار

 ہمارے دور کو برباد کر گئے افکار

یہ کون آئے کہ گھر گھر سے در گئے افکار

تمام لوگ بہت خوش ہیں اپنی مستی میں ہیں

میں کس سے بولوں مِرے لوگ مر گئے افکار

وہ مجھ پہ غور کرے گا تو مجھ سے پوچھے گا

کہ آدھے آدھے ہو، آدھے کدھر گئے افکار

Friday, 14 May 2021

میں باغی ہوں میں باغی ہوں سچ کہتا ہوں

 توشک میں اب نہ رہ ظالم 

میں باغی ہوں میں باغی ہوں، سچ کہتا ہوں 

میں کہتا ہوں


میں باغی ان جاگیروں کا 

ان ملا پنڈت پیروں کا 

جو جھوٹے فتوے دیتے ہیں مل کے ان امیروں سے

Wednesday, 12 May 2021

کس لیے میرے خیالات پہ دھرنے دینا

 کس لیے میرے خیالات پہ دھرنے دینا

شعر اترتا ہے تو پھر کیوں نہ اترنے دینا

مجھ کو دنیا میں گناہوں کی اجازت دے دے

جو یہاں کر لوں وہ جنت میں نہ کرنے دینا

یہ دلیری بڑے نقصان کیا کرتی ہے

بچے بچپن میں اگر ڈرتے ہوں، ڈرنے دینا

Thursday, 30 July 2020

روح سے عشق کیا اور بدن چھوڑ دیا

روح سے عشق کیا، اور بدن چھوڑ دیا
میں نے انسان کا 'آبائی' وطن چھوڑ دیا
وہ مِرے ہاتھ میں تھا، کچھ بھی میں کر سکتا تھا
میری خواہش پہ ہوئی حاوی تھکن، چھوڑ دیا
اس نے یوں چھوڑ دی پائل کہ بہت بھاری ہے
اور پائل نے بھی اس دکھ میں چھنن چھوڑ دیا

سو دعا کرتا تھا مر جائے پریشان نہ ہو

تجربہ تھا، سو دعا کی تا کہ نقصان نہ ہو
عشق مزدور کو مزدوری کے دوران نہ ہو
میں اسے دیکھ نہ پاتا تھا "پریشانی" میں
سو دعا کرتا تھا، مر جائے، پریشان نہ ہو
گاؤں میں دور کی سِسکی بھی سنی جاتی ہے
سب پہنچتے ہیں، بھلے آنے کا اعلان نہ ہو

Monday, 27 July 2020

جو گہرے دوست ہیں میرے مجھے سمجھتے ہیں

کمینہ پن بھی دکھاؤں تو ہنسنے لگتے ہیں
جو گہرے دوست ہیں میرے مجھے سمجھتے ہیں
اسے معاف کِیا کہ وہ اُس کو چاہتا تھا
وگرنہ ہم جو حریفوں کا حال کرتے ہیں
بس ایک بار مجھے ماضی بھول جانے دے
وہ خود پہ آہیں بھریں گے جو کان بھرتے ہیں

جب آنکھیں دکھنے لگیں دیکھ کر دعا کی طرف

جب آنکھیں دُکھنے لگیں دیکھ کر دعا کی طرف
رجوع کرنے لگے لوگ پھر دوا کی طرف
ہمارا کام فقط دیکھنا ہے،۔ دیکھ رہے
خدا ہماری طرف، اور ہم خدا کی طرف
ذرا سے ہوش میں آتے ہی عشق سے بھاگے
کہ ہم نشے میں ہی آئے تھے اِس بلا کی طرف

Sunday, 26 July 2020

تم ترانے کہو

تم ترانے کہو
میرے بچوں کے سینوں پہ تڑ تڑ ہوئی، بچے چیرے گئے
اسلحہ دشمنوں نے اٹھایا ہوا ہے
تم ایسا کرو موم بتی اٹھاؤ
کوئی گیت گاتے ہوئے ڈھولکی کی ڈھنگا ڈھنگ پہ چلتے رہو
اور خوشیاں مناؤ کہ یوں کر کے دشمن سے بدلہ لیا جا چکا ہے

Wednesday, 17 June 2020

اسے ہی ٹھیک سے آیا نہیں بلانا دوست

اسے ہی ٹھیک سے آیا نہیں بلانا دوست
وگرنہ، کون نہیں چاہتا پرانا دوست؟
بس ایک لمحہ اسے میرے ساتھ دیکھا گیا
اور، اس کے بعد مِرا ہو گیا زمانہ دوست
میں عشق یافتہ لڑکا ہوں خوب جانتا ہوں
کسی کا آنا یا جانا، یا آنا جانا دوست

تو میرے ضبط سے ڈر تو نہیں گیا مرے دوست

تُو میرے ضبط سے ڈر تو نہیں گیا مِرے دوست
کہ آج ٹھیک سے لڑ بھی نہیں سکا مرے دوست
تُو آج کون سے دکھ میں ہے، کیا ہوا ہے تجھے؟
میں رو رہا ہوں تُو ہنس بھی نہیں رہا مرے دوست
وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا "مری محبت" کا
"سو میں نے بات بدل کر کہا "سنا مرے دوست