مختلف رنگوں سے دنیا ہم کو سمجھاتی رہی
اپنی فطرت پھر بھی دیہاتی کی دیہاتی رہی
خالقا! وے خالقا! ہم تو تِرے شہکار تھے
لے تِری دنیا تِرے شہکار ٹُھکراتی رہی
کون مومن، کون ملحد بارگاہِ عشق میں
مجلسیں پڑھتی تھی وہ اور میرے گُن گاتی رہی
مختلف رنگوں سے دنیا ہم کو سمجھاتی رہی
اپنی فطرت پھر بھی دیہاتی کی دیہاتی رہی
خالقا! وے خالقا! ہم تو تِرے شہکار تھے
لے تِری دنیا تِرے شہکار ٹُھکراتی رہی
کون مومن، کون ملحد بارگاہِ عشق میں
مجلسیں پڑھتی تھی وہ اور میرے گُن گاتی رہی
پرونیٹ
عنقریب انسان ناپید ہو جائیں گے
پُر امن زندگی، درندے بے فکر پھریں گے
پرندے اگر اڑے تو اپنی مرضی سے اڑیں گے
شیر ہرنیوں کو اپنے پیٹ پہ بیٹھا کر انسانی کہانیاں سنائیں گے
زمین کو اب امن دینے کی ٹھان لی جائے گی
کچھ ایسے درد ہماری جوانیوں میں بٹے
ہنسی کو زور سے ہنس دیں تو سسکیوں میں بٹے
اکٹھے بیٹھ کے ہم نے شراب نوشی کی
خدا سے ملنے گئے تو نمازیوں میں بٹے
دھماکے والے نے رنگوں کا فرق مار دیا
تمام جسم فقط لال کرچیوں میں بٹے
جو بھی عزت کے ڈر سے، ڈر جائے
مت کرے عشق، اپنے گھر جائے
بات آ جائے جب دعاؤں پر
اس سے بہتر ہے بندہ مر جائے
تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ
میری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے
کچھ ایسے درد ہماری جوانیوں میں بٹے
ہنسی کو زور سے ہنس دیں تو سسکیوں میں بٹے
اکٹھے بیٹھ کے ہم نے شراب نوشی کی
خدا سے ملنے گئے تو نمازیوں میں بٹے
دھماکے والے نے رنگوں کا فرق مار دیا
تمام جسم فقط لال کرچیوں میں بٹے
بے سکونی
دوستا! ان دنوں میں بڑی بے سکونی میں ہوں
بے سکونی کا مت پوچھ کیا ہے؟ بلا ہے
بے سکونی کا چہرہ کبھی جاگتی آنکھوں میں دیکھنا
بے سکونی کا چہرہ کبھی ایسے افراد میں دیکھنا
جن کو چپ لگ گئی
قنوط
مرے ودود! معافی، ہمیں ندامت ہے
کہ خوش نہیں ہیں تِری کائنات میں آ کر
تِری زمیں سے ہم ایسے شکستہ دل ہوئے ہیں
کہ ہم پہ مذہبی پابندیاں نہ ہوتیں تو
ہم ایسے لوگ وصیت میں لکھ کے مر جاتے؛
ہمیں بزرگوں نے تلقین کی اپیل کے ساتھ
کہ ساتھ رہنا تو رہنا کسی اصیل کے ساتھ
دلوں میں خوف بٹھانا تو بدمعاشی ہے
دلوں میں بات بٹھاؤ کسی دلیل کے ساتھ
اب اس مقام پہ لا کر کھڑا کیا ہے اسے
وہ میرے ساتھ چلے گی یا عزرائیل کے ساتھ
پھر سے مدہوش ہوئے، بہکے، بڑے بَین کیے
وہ بہت ہنسے میاں ہم نے بڑے بین کیے
کل وہاں عشق کے ماروں کی عزاداری تھی
اور ہم نے بھی وہاں جا کے بڑے بین کیے
ایک وہ ایک کہ جو پھر سے اداکار بنا
ایک یہ لوگ کہ جو سمجھے، بڑے بین کیے
بے سکونی
دوستا! ان دنوں میں بڑی بے سکونی میں ہوں
بے سکونی کا مت پوچھ کیا ہے؟ بلا ہے
بے سکونی کا چہرہ کبھی جاگتی آنکھوں میں دیکھنا
بے سکونی کا چہرہ کبھی ایسے افراد میں دیکھنا
جن کو چُپ لگ گئی
ہمارے دور کو برباد کر گئے افکار
یہ کون آئے کہ گھر گھر سے در گئے افکار
تمام لوگ بہت خوش ہیں اپنی مستی میں ہیں
میں کس سے بولوں مِرے لوگ مر گئے افکار
وہ مجھ پہ غور کرے گا تو مجھ سے پوچھے گا
کہ آدھے آدھے ہو، آدھے کدھر گئے افکار
توشک میں اب نہ رہ ظالم
میں باغی ہوں میں باغی ہوں، سچ کہتا ہوں
میں کہتا ہوں
میں باغی ان جاگیروں کا
ان ملا پنڈت پیروں کا
جو جھوٹے فتوے دیتے ہیں مل کے ان امیروں سے
کس لیے میرے خیالات پہ دھرنے دینا
شعر اترتا ہے تو پھر کیوں نہ اترنے دینا
مجھ کو دنیا میں گناہوں کی اجازت دے دے
جو یہاں کر لوں وہ جنت میں نہ کرنے دینا
یہ دلیری بڑے نقصان کیا کرتی ہے
بچے بچپن میں اگر ڈرتے ہوں، ڈرنے دینا