Monday, 3 August 2026

دل اسے دیکھ کے ایسے مرے اندر ناچا

 دل اسے دیکھ کے ایسے مِرے اندر ناچا

جیسے اک پیڑ ہواؤں سے لِپٹ کر ناچا

ایک خُوشبو کی لہر سے مِرا آنگن مہکا

ایک دستک ہوئی ایسی کہ مِرا گھر ناچا

ایک سایہ تھا مِرے جسم سے لگ کر بیٹھا

ایک سایہ مِرے اندر سے نکل کر ناچا

ایک دن جب مِری قسمت کا ستارہ چمکا

بند مُٹھی میں مقدّر کو چُھپا کر ناچا

ایک جنگل سے یہ چُپ چاپ ندی پُوچھتی ہے

کون ڈُوبا ہے جو اُٹھ اُٹھ کے سمندر ناچا


کمیل کاظمی

No comments:

Post a Comment