ہم تاسف سے ہاتھ ملتے رہے
آستینوں میں سانپ پلتے رہے
ہم بھی مثلِ چراغِ تنہائی
اس کی محفل میں رات جلتے رہے
غیر آ آ کے دے گئے مٹی
وہ پرے دُور ہی ٹہلتے رہے
ہم تاسف سے ہاتھ ملتے رہے
آستینوں میں سانپ پلتے رہے
ہم بھی مثلِ چراغِ تنہائی
اس کی محفل میں رات جلتے رہے
غیر آ آ کے دے گئے مٹی
وہ پرے دُور ہی ٹہلتے رہے
مجھ پہ جو تیرے تغافل سے گُزر جائے ہے
سچ بتا! تجھ کو بھی اس کی خبر جائے ہے
سُوئے مقتل وہی بے خوف و خطر جائے ہے
شوقِ دِید میں جو حد سے گُزر جائے ہے
تیرا دیوانہ جِدھر سے بھی گُزر جائے ہے
کیفیت اُس کی سے ہر آدمی ڈر جائے ہے
سلسلہ تو کر قاصد اس تلک رسائی کا
دُکھ سہا نہیں جاتا یار کی جُدائی کا
جب ذرا مہک آئی، شاخ میں لچک آئی
باغباں کو دھیان آیا باغ کی صفائی کا
سر پہ پیر رکھتا ہے مجھ سے بیر رکھتا ہے
میں نے کب کیا دعویٰ تجھ سے آشنائی کا
انتظار کی حد تک انتظار کرنا تھا
اعتبار کی حد تک اعتبار کرنا تھا
حالِ دل تو کہنا تھا مُختصر مگر قاصد
اِختصار کی حد تک اِختصار کرنا تھا
خواب ہو کہ بیداری آہ و نالہ و زاری
اِختیار کی حد تک اِختیار کرنا تھا