Showing posts with label تمیز دہلوی. Show all posts
Showing posts with label تمیز دہلوی. Show all posts

Sunday, 18 February 2024

ہم تاسف سے ہاتھ ملتے رہے

 ہم تاسف سے ہاتھ ملتے رہے

آستینوں میں سانپ پلتے رہے

ہم بھی مثلِ چراغِ تنہائی

اس کی محفل میں رات جلتے رہے

غیر آ آ کے دے گئے مٹی

وہ پرے دُور ہی ٹہلتے رہے

Thursday, 4 January 2024

مجھ پہ جو تیرے تغافل سے گزر جائے ہے

 مجھ پہ جو تیرے تغافل سے گُزر جائے ہے

سچ بتا! تجھ کو بھی اس کی خبر جائے ہے

سُوئے مقتل وہی بے خوف و خطر جائے ہے

شوقِ دِید میں جو حد سے گُزر جائے ہے

تیرا دیوانہ جِدھر سے بھی گُزر جائے ہے

کیفیت اُس کی سے ہر آدمی ڈر جائے ہے

Wednesday, 13 April 2022

سلسلہ تو کر قاصد اس تلک رسائی کا

 سلسلہ تو کر قاصد اس تلک رسائی کا

دُکھ سہا نہیں جاتا یار کی جُدائی کا

جب ذرا مہک آئی، شاخ میں لچک آئی

باغباں کو دھیان آیا باغ کی صفائی کا

سر پہ پیر رکھتا ہے مجھ سے بیر رکھتا ہے

میں نے کب کیا دعویٰ تجھ سے آشنائی کا

Monday, 30 November 2020

انتظار کی حد تک انتظار کرنا تھا

انتظار کی حد تک انتظار کرنا تھا

اعتبار کی حد تک اعتبار کرنا تھا

حالِ دل تو کہنا تھا مُختصر مگر قاصد

اِختصار کی حد تک اِختصار کرنا تھا

خواب ہو کہ بیداری آہ و نالہ و زاری

اِختیار کی حد تک اِختیار کرنا تھا