عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا
یوں ہی سی ایک شکل کو زہرہ جمال کر دیا
ہم کو تمہاری بزم سے اٹھنے کا کچھ قلق نہیں
جیسا خیال ہو سکا ویسا خیال کر دیا
سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھ
وقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا
عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا
یوں ہی سی ایک شکل کو زہرہ جمال کر دیا
ہم کو تمہاری بزم سے اٹھنے کا کچھ قلق نہیں
جیسا خیال ہو سکا ویسا خیال کر دیا
سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھ
وقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا
ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے
جو سب کو مجھے دیکھ کے حیرانی ہوئی ہے
دل میں تو تِری یاد تھی اک بوند لہو کی
آنکھوں میں جو آئی تو یہی پانی ہوئی ہے
قلزم کا ہے اعزاز کہ تہہ داری کی ہر موج
اس زلفِ گِرہ گیر کی دیوانی ہوئی ہے
اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک
وہ میرے ساتھ ساتھ تھا عروج سے زوال تک
نہیں ہے سہل اس قدر کہ جی سکے ہر ایک شخص
بلائے ہجر کی رُتوں سے موسم وصال تک
ہماری کشت آرزو یہ دھوپ کیا جلائے گی
تمہارا انتظار ہم کریں گے برشگال تک
قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں
خاک بہ سر اس دشت میں خاک اڑا کے آئے ہیں
یاد ہے تیغِ بے رخی، یاد ہے ناوکِ ستم
بزم سے تیری اہلِ دل رنج اٹھا کے آئے ہیں
جرم تھی سیر گلستاں جرم تھا جلوہ ہائے گل
جبر کے باوجود ہم گشت لگا کے آئے ہیں
سکون دل گیا، نظروں سے سب قطارے گئے
چمن میں کھلتے ہوئے جب سے پھول مارے گئے
💢ہوائے موت ذرا دیر کیا ادھر آئی💢
کہ میرے ہاتھ سے اڑ کر مِرے غبارے گئے
انہیں ہی مرتبہ ملتا ہے جا کے جنت میں
حصول علم کی خاطر جو جان وارے گئے
ایسا علاجِ حبسِ دلِ زار چاہئے
اک در فصیلِ جاں میں ہوا دار چاہئے
اک جھیل نغمہ ریز ہو اہلِ سفر کے ساتھ
سر سبز دُور تک صفِ اشجار چاہئے
صحرا کفِ تموّجِ دریا میں ہو اسیر
شعلہ ہوا سے بر سرِ پیکار چاہئے