Showing posts with label عظیم حیدر. Show all posts
Showing posts with label عظیم حیدر. Show all posts

Wednesday, 16 March 2022

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا

 عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا

یوں ہی سی ایک شکل کو زہرہ جمال کر دیا

ہم کو تمہاری بزم سے اٹھنے کا کچھ قلق نہیں

جیسا خیال ہو سکا ویسا خیال کر دیا

سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھ

وقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا

Saturday, 19 February 2022

ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے

 ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے

جو سب کو مجھے دیکھ کے حیرانی ہوئی ہے

دل میں تو تِری یاد تھی اک بوند لہو کی

آنکھوں میں جو آئی تو یہی پانی ہوئی ہے

قلزم کا ہے اعزاز کہ تہہ داری کی ہر موج

اس زلفِ گِرہ گیر کی دیوانی ہوئی ہے

Sunday, 23 January 2022

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک

 اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک

وہ میرے ساتھ ساتھ تھا عروج سے زوال تک

نہیں ہے سہل اس قدر کہ جی سکے ہر ایک شخص

بلائے ہجر کی رُتوں سے موسم وصال تک

ہماری کشت آرزو یہ دھوپ کیا جلائے گی

تمہارا انتظار ہم کریں گے برشگال تک

Saturday, 22 January 2022

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں

 قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں

خاک بہ سر اس دشت میں خاک اڑا کے آئے ہیں

یاد ہے تیغِ بے رخی، یاد ہے ناوکِ ستم

بزم سے تیری اہلِ دل رنج اٹھا کے آئے ہیں

جرم تھی سیر گلستاں جرم تھا جلوہ ہائے گل

جبر کے باوجود ہم گشت لگا کے آئے ہیں

Friday, 9 July 2021

سکون دل گیا نظروں سے سب قطارے گئے

 سکون دل گیا، نظروں سے سب قطارے گئے

چمن میں کھلتے ہوئے جب سے پھول مارے گئے

💢ہوائے موت ذرا دیر کیا ادھر آئی💢

کہ میرے ہاتھ سے اڑ کر مِرے غبارے گئے

انہیں ہی مرتبہ ملتا ہے جا کے جنت میں

حصول علم کی خاطر جو جان وارے گئے

Friday, 7 May 2021

ایسا علاج حبس دل زار چاہئے

 ایسا علاجِ حبسِ دلِ زار چاہئے

اک در فصیلِ جاں میں ہوا دار چاہئے

اک جھیل نغمہ ریز ہو اہلِ سفر کے ساتھ

سر سبز دُور تک صفِ اشجار چاہئے

صحرا کفِ تموّجِ دریا میں ہو اسیر

شعلہ ہوا سے بر سرِ پیکار چاہئے