کس ادا سے بزم میں شامل وہ محوِ ناز تھا
اس کی ہر اک بات میں دل لینے کا اعجاز تھا
وہ کہ اپنے حُسن پر بے انتہا مغرور تھے
میں کہ اپنی رسمِ اُلفت پر مجھے بھی ناز تھا
اک نظر دیکھا نہ اس نے مجھ کو بزمِ غیر میں
مصلحت تھی کچھ نہ کچھ اس میں بھی کوئی راز تھا
خرمنِ دل پر یکایک برق نازل ہو گئی
مُسکرانے کا مِری جاں کچھ عجب انداز تھا
ہائے وہ دن یاد آتے ہیں جوانی کے ہمیں
ولولہ تھا جب طبیعت میں بھی سوز و ساز تھا
کیوں نہ کہتا فخر سے محفل میں باتیں بھید کی
غیر آخر آپ ہی کا منہ چڑھا ہمراز تھا
ہو گیا دُنیا سے رُخصت ہاجرِ مُعجز بیاں
ہند میں جو ہمنوائے بُلبلِ شیراز تھا
ہاجر دہلوی
No comments:
Post a Comment